کتب حدیث ›
مستدرکِ حاکم › ابواب
› باب: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منسوب بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے کی من گھڑت حدیث کا بیان۔
ما حدثني أبو بكر مكِّيُّ بن أحمد البَردَعيّ، حدثنا أبو الفضل العباس بن عِمران القاضي، حدثنا أبو جابر سَيْف بن عمرو، حدثنا محمد بن أبي السَّريّ، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا مالك، عن حميد، عن أنس، قال: صلَّيتُ خلفَ النبي ﷺ وخلفَ أبي بكر وخلفَ عمر وخلفَ عثمان وخلفَ علي، فكلُّهم كانوا يجهَرون بقراءة "بِسم الله الرَّحمن الرَّحيم" (2). إنما ذكرتُ هذا الحديث شاهدًا لما تقدمه، ففي هذه الأخبار التي ذكرناها مُعارَضةٌ لحديث قتادةَ الذي يرويه أئمَّتُنا عنه. وقد بقيَ في الباب عن أمير المؤمنين عثمان وعلي وطلحة بن عبيد الله وجابر بن عبد الله وعبد الله بن عمر والحَكَم بن عُمير الثُّمالي والنعمان بن بَشير وسَمُرة بن جُندُب وبُريدة الأَسلمي وعائشة بنت الصِّدِّيق، كلُّها مخرَّجة عندي للباب تركتها إيثارًا للتخفيف، واختصرتُ منها ما يَلِيقُ بهذا الباب، وكذلك قد ذكرتُ في الباب مَن جَهَرَ ببِسْم الله الرَّحمن الرَّحيم من الصحابة والتابعين وأتباعهم ﵃ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 855 - أما استحيى المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع فأشهد بالله ولله بأنه كذب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 855 - أما استحيى المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع فأشهد بالله ولله بأنه كذب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، یہ سب «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» بلند آواز سے پڑھتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث صرف پچھلی روایات کی تائید (شاہد) کے طور پر ذکر کی ہے، ہماری ذکر کردہ ان روایات میں قتادہ کی اس حدیث کا معارضہ ہے جسے ہمارے ائمہ ان سے روایت کرتے ہیں۔ اس باب میں امیر المؤمنین عثمان، علی، طلحہ بن عبید اللہ، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عمر، حکم بن عمیر ثمالی، نعمان بن بشیر، سمرہ بن جندب، بریدہ اسلمی اور عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہم سے بھی روایات باقی ہیں، جو سب میرے پاس اس باب کے لیے تخریج شدہ ہیں، میں نے اختصار کی خاطر انہیں چھوڑ دیا اور ان میں سے اتنا مختصراً لیا جو اس باب کے لائق ہے، اسی طرح میں نے اس باب میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین میں سے ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے جو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» بلند آواز سے پڑھتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث صرف پچھلی روایات کی تائید (شاہد) کے طور پر ذکر کی ہے، ہماری ذکر کردہ ان روایات میں قتادہ کی اس حدیث کا معارضہ ہے جسے ہمارے ائمہ ان سے روایت کرتے ہیں۔ اس باب میں امیر المؤمنین عثمان، علی، طلحہ بن عبید اللہ، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عمر، حکم بن عمیر ثمالی، نعمان بن بشیر، سمرہ بن جندب، بریدہ اسلمی اور عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہم سے بھی روایات باقی ہیں، جو سب میرے پاس اس باب کے لیے تخریج شدہ ہیں، میں نے اختصار کی خاطر انہیں چھوڑ دیا اور ان میں سے اتنا مختصراً لیا جو اس باب کے لائق ہے، اسی طرح میں نے اس باب میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین میں سے ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے جو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» بلند آواز سے پڑھتے تھے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا ابن أبي ذِئْب عن سعيد بن سِمْعان قال: دخل علينا أبو هريرة مسجدَ بني زُرَيق فقال: ثلاثٌ كان رسول الله ﷺ يعمل بهنَّ تركهنَّ الناسُ: كان إذا قامَ إلى الصلاة قال هكذا؛ وأشار أبو عامر بيده، ولم يُفرِّج بين أصابعه ولم يَضُمَّها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده المفسَّر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 856 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده المفسَّر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 856 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بنو زریق کی مسجد میں ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تین کام ایسے ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ عمل کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے: آپ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس طرح کرتے، اور (راوی) ابو عامر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، نہ انگلیوں کو کشادہ کیا اور نہ انہیں ملایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی وضاحت کرنے والا شاہد یہ ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی وضاحت کرنے والا شاہد یہ ہے:
ما حدَّثناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزني، حدثنا أبو جعفر الحضرمي وعبد الله بن غنَّام، قالا: حدثنا عبد الله بن سعيد الأشَجّ، حدثنا يحيى بن اليَمَان، عن ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن سِمْعان، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كَان يَنشُر أصابعَه في الصلاة نَشْرًا (1). سعيد بن سِمعان تابعيٌّ معروف من أهل المدينة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنی انگلیاں خوب کشادہ رکھتے تھے۔
سعید بن سمعان اہل مدینہ کے ایک معروف تابعی ہیں۔
سعید بن سمعان اہل مدینہ کے ایک معروف تابعی ہیں۔