حدیث نمبر: 778
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو معاوية، أخبرنا حارثة بن محمد، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتَتَح الصلاةَ رفع يديه حَذْوَ مَنكِبيه، ثم يقول: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك، وتبارَكَ اسمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إلهَ غيرُك"(1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وكان مالك بن أنس رحمه الله لا يرضى حارثةَ بن محمد، وقد رَضِيَه أقرانُه من الأئمة(2)، ولا أحفظُ في قوله صلى الله عليه وسلم عند افتتاح الصلاة: "سبحانَك اللهمَّ وبحمدِك" أصحَّ من هذين الحديثين. وقد صحَّت الروايةُ فيه عن أمير المؤمنين عمر بن الخطَّاب رضي الله عنه أنه كان يقولُه:
حافظ طلحہ بابر

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ کلمات پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ.» ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 778
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل حارثة بن محمد: وهو حارثة بن أبي الرِّجال» [ترقيم الرساله 778]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل حارثة بن محمد: وهو حارثة بن أبي الرِّجال.
درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ اسناد حارثہ بن محمد (جو کہ حارثہ بن ابی الرجال ہیں) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
اہم نکتہ: سند میں مروی "ابو معاویہ" دراصل محمد بن خازم الضریر ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (806)، والترمذي (243) من طرق عن أبي معاوية به. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (806) اور امام ترمذی (243) نے ابو معاویہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے سابقہ بحث ملاحظہ کریں۔
(2) يعني: فروَوا عنه كأبي معاوية وسفيان الثوري ويحيى بن أبي زائدة وغيرهم، لكن مجرد الرواية عن شيخٍ ما لا تعني توثيقَه كما هو مقرَّر عند أهل الصَّنعة، ولذلك اتفقوا على ضعفه.
مجموعی اصول / قاعدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے (حارثہ سے) بڑے ائمہ مثلاً ابو معاویہ، سفیان ثوری اور یحییٰ بن ابی زائدہ وغیرہ نے روایت کیا ہے، لیکن فنِ حدیث کے ماہرین کے نزدیک محض کسی شیخ سے روایت کر لینا اس کی "توثیق" کی دلیل نہیں ہوتا، اسی لیے ائمہ کا ان کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 778 سے ماخوذ ہے۔