حدّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدّثنا أبو الرَّبيع ابن أخي رِشْدِين وأبو الطاهر قالا: أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص قال: سمعتُ سعدًا وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقولون: كان رجلانِ أخَوانِ في عهد رسول الله ﷺ، وكان أحدُهما أفضلَ من الآخر، فتُوفي الذي هو أفضلُهما، ثم عُمِّرَ الآخرُ بعده أربعين يومًا، ثم تُوفيَ، فذكروا الرسول الله ﷺ فضيلةَ الأوَّل على الآخِر، فقال: "ألم يكن يُصلي؟ " قالوا: بلى يا رسول الله، وكان لا بأسَ به، فقال رسول الله ﷺ: "فما يُدرِيكم ماذا بَلَغَت به صلاتُه، إنَّما مَثَلُ الصلاة كَمَثَل نهرٍ جارٍ بباب رجلٍ، عَمْرٍ عَذْبٍ، يَقتحِمُ فِيهِ كلَّ يوم خمسَ مرَّات، فماذا تَرَونَ يبقى من دَرَنِه؟ لا تدرونَ ماذا بَلَغَت به صلاتُه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا مَخرَمةَ بن بُكير، والعِلَّة فيه أنَّ طائفة من أهل مصر ذكروا أنه لم يسمع من أبيه لصِغَر سنِّه، وأثبتَ بعضُهم سماعَه منه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 718 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا مَخرَمةَ بن بُكير، والعِلَّة فيه أنَّ طائفة من أهل مصر ذكروا أنه لم يسمع من أبيه لصِغَر سنِّه، وأثبتَ بعضُهم سماعَه منه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 718 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے (عبادت میں) افضل تھا، پھر اس افضل بھائی کا انتقال ہو گیا اور دوسرا اس کے بعد چالیس دن تک زندہ رہا اور پھر وہ بھی فوت ہو گیا۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ (دوسرا بھائی) نماز نہیں پڑھتا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! وہ نماز تو پڑھتا تھا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ اس کی نماز نے اسے کس مقام پر پہنچا دیا ہے؟ نماز کی مثال تو اس میٹھے اور صاف شفاف بہتے ہوئے دریا کی طرح ہے جو کسی شخص کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ تم نہیں جانتے کہ اس کی نماز نے اسے کہاں پہنچا دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ ابن أبي هلال حدَّثه، أنَّ نُعيمًا المُجمِر حدَّثه (1)، أنَّ صهيبًا مولى العُتْوارِيِّين حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري وأبا هريرة يُخبِران عن النبيّ ﷺ: أنه جَلَسَ على المِنبَر، ثم قال: "والذي نَفْسي بيده" ثلاث مراتٍ، ثم سَكَتَ، فأكَبَّ كلُّ رجل منا يبكي حزينًا ليمينِ رسول الله ﷺ، ثم قال: "ما من عبدٍ يأتي الصَّلَواتِ الخمسَ، ويصومُ رمضان، ويجتنِبُ الكبائرَ السَّبْع، إلّا فُتِحَت له أبواب الجنة يومَ القيامة حتى إنها لَتَصطَفِقُ" ثم تلا: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [النساء: 31] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما أهمَلَاه لذِكْر صهيب مولى العُتْواريِّين بين نُعيم بن عبد الله وأبي هريرة، فإنهما قد اتَّفقا على صِحَّة رواية نُعيم عن الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 719 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما أهمَلَاه لذِكْر صهيب مولى العُتْواريِّين بين نُعيم بن عبد الله وأبي هريرة، فإنهما قد اتَّفقا على صِحَّة رواية نُعيم عن الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 719 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور تین بار فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! “ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے، ہم میں سے ہر شخص آپ ﷺ کی اس قسم کی وجہ سے غم زدہ ہو کر رونے لگا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی بندہ پانچوں نمازیں ادا کرے گا، رمضان کے روزے رکھے گا اور سات بڑے گناہوں (کبیرہ) سے بچے گا، تو قیامت کے دن اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ آپس میں بجنے لگیں گے،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تمہیں روکا جاتا ہے تو ہم تمہاری برائیاں تم سے دور کر دیں گے﴾ [سورة النساء: 31]۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدّثنا يحيى بن منصور القاضي، حدّثنا أحمد بن سَلَمة بن عبد الله، حدّثنا نَصْر بن علي الجَهْضَمي، حدّثنا نوح بن قيس، عن أخيه خالد بن قيس، عن قَتَادة، عن أنس قال: قال رجل: يا رسولَ الله، كم افتَرَضَ اللهُ على عبادِه من الصلوات؟ قال: "خمسَ صَلَواتٍ"، قال: هل قبلَهنَّ أو بعدَهنَّ؟ قال: "افتَرَضَ اللهُ على عبادِه صلواتٍ خمسًا قال: هل قبلَهنَّ أو بعدَهنَّ؟ قال: "افتَرَضَ اللهُ على عبادِهِ صلواتٍ خمسًا"، فحَلَفَ الرجلُ بالله لا يزيدُ عليهنَّ ولا يَنقُص، فقال رسول الله ﷺ: "إِنْ صَدَقَ، دخلَ الجنةَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وقد حدَّث مسلم في "الصحيح" بثلاثة أصول بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 720 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وقد حدَّث مسلم في "الصحيح" بثلاثة أصول بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 720 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں،“ اس نے پوچھا: کیا ان سے پہلے یا ان کے بعد بھی کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“ اس شخص نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ ان میں نہ تو اضافہ کرے گا اور نہ ہی کمی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا عبد الملك بن الرَّبيع بن سَبْرة، عن أبيه، عن جدِّه رفعه إلى النبي ﷺ، قال: "إذا بَلَغَ أولادكُم سبعَ سنينَ ففرِّقوا بين فُرُشِهم، وإذا بَلَغُوا عشرَ سنينَ فاضرِبُوهم على الصلاة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بعبد الملك بن الرَّبيع بن سَبْرة عن آبائه، ثم لم يُخرج واحدٌ منهما هذا الحديث. وشاهدُه معروفٌ من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 721 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بعبد الملك بن الرَّبيع بن سَبْرة عن آبائه، ثم لم يُخرج واحدٌ منهما هذا الحديث. وشاهدُه معروفٌ من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 721 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو ان کے بستر الگ کر دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز (نہ پڑھنے) پر مارو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے عبد الملک بن ربیع سے احتجاج کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد عمرو بن شعیب کی روایت ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے عبد الملک بن ربیع سے احتجاج کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد عمرو بن شعیب کی روایت ہے۔
حدَّثناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا سهل بن مهران الدقَّاق، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حدثنا سوَّار بن داود أبو حمزة، حدثنا عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله ﷺ: "مُرُوا الصِّبيان بالصلاةِ لسبعِ سنين، واضرِبُوهم عليها في عشرِ سنين، وفَرَّقوا بينهم في المَضاجِع" (1)
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں اس (کے ترک) پر انہیں مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے عمرو بن شعیب کو ثقہ قرار دیا ہے، اور امام اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا ثقہ ہو تو یہ روایت نافع عن ابن عمر کی طرح قوی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے عمرو بن شعیب کو ثقہ قرار دیا ہے، اور امام اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا ثقہ ہو تو یہ روایت نافع عن ابن عمر کی طرح قوی ہے۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: عمرو بن شعيب ثقة. قال الحاكم: وإنما قالوا في هذه الترجمة للإرسال، فإنه عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وشعيبٌ لم يسمع من جدِّه عبد الله بن عمرو(2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عمرو بن شعیب ثقہ ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ نے اس سند پر کلام صرف مرسل ہونے کی وجہ سے کیا ہے، کیونکہ شعيب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے براہِ راست نہیں سنا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ نے اس سند پر کلام صرف مرسل ہونے کی وجہ سے کیا ہے، کیونکہ شعيب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے براہِ راست نہیں سنا۔
سمعتُ الأستاذ أبا الوليد يقول: سمعت الحسن بن سفيان يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحَنَظَلي يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر.
حافظ طلحہ بابر
امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو یہ سند ثقاہت اور قوت میں «أَيُّوب عَنْ نَافِع عَنْ ابْن عُمَر» کے برابر سمجھی جائے گی۔