المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ باب: پانچ فرض نمازوں کی فضیلت کے بیان کا باب۔
حدیث نمبر: 725
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا عبد الملك بن الرَّبيع بن سَبْرة، عن أبيه، عن جدِّه رفعه إلى النبي ﷺ، قال: "إذا بَلَغَ أولادكُم سبعَ سنينَ ففرِّقوا بين فُرُشِهم، وإذا بَلَغُوا عشرَ سنينَ فاضرِبُوهم على الصلاة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بعبد الملك بن الرَّبيع بن سَبْرة عن آبائه، ثم لم يُخرج واحدٌ منهما هذا الحديث. وشاهدُه معروفٌ من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 721 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو ان کے بستر الگ کر دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز (نہ پڑھنے) پر مارو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے عبد الملک بن ربیع سے احتجاج کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد عمرو بن شعیب کی روایت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الملك بن الربيع، على شذوذ في لفظه، فقد انفرد يعقوب بن إبراهيم في قوله: "إذا بلغ أولادكم سبع سنين ففرقوا بين فُرُشهم"، وهكذا رواه من طريقه أيضًا ابن أبي الدنيا في "العيال" (294) والدارقطني في "السنن" (886)، وخالفه كلُّ من روى هذا الحديث عن عبد الملك بن الربيع فقال فيه: "إذا بلغ الغلام سبع سنين أُمر بالصلاة، فإذا بلغ عشرًا ضُرب عليها" وهو المحفوظ، أخرجه أحمد 24/ (15339)، وأبو داود (494)، والترمذي (407) وغيرهم من طرق عن عبد الملك بن الربيع به، وسيأتي عند المصنف برقم (961) من طريق حرملة بن عبد العزيز عن عبد الملك. ويشهد له ما بعده.
درجۂ حدیث: عبد الملک بن ربیع (بن سبرہ) کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں 'حسن' ہے، البتہ اس کے الفاظ میں شذوذ (اختلاف) پایا جاتا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یعقوب بن ابراہیم اس قول میں اکیلے ہیں کہ "جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو تو ان کے بستر الگ کر دو"۔ ابن ابی الدنیا اور دارقطنی نے بھی ان کے طریق سے یہی روایت کی ہے۔ تاہم دیگر تمام راویوں نے عبد الملک سے جو روایت کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: "جب لڑکا سات سال کا ہو تو اسے نماز کا حکم دو، اور دس سال کا ہو تو اس پر (سختی سے) مارو"، اور یہی 'محفوظ' لفظ ہے۔ اسے امام احمد، ابو داود اور ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: عبد الملک بن ربیع (بن سبرہ) کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں 'حسن' ہے، البتہ اس کے الفاظ میں شذوذ (اختلاف) پایا جاتا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یعقوب بن ابراہیم اس قول میں اکیلے ہیں کہ "جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو تو ان کے بستر الگ کر دو"۔ ابن ابی الدنیا اور دارقطنی نے بھی ان کے طریق سے یہی روایت کی ہے۔ تاہم دیگر تمام راویوں نے عبد الملک سے جو روایت کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: "جب لڑکا سات سال کا ہو تو اسے نماز کا حکم دو، اور دس سال کا ہو تو اس پر (سختی سے) مارو"، اور یہی 'محفوظ' لفظ ہے۔ اسے امام احمد، ابو داود اور ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔