حدیث نمبر: 721
حدّثنا علي بن عيسى، حدّثنا أبو منصور يحيى بن أحمد بن زياد، حدّثنا يحيى بن مَعِين، حدّثنا هُشَيم، أخبرنا داود بن أبي هند. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدّثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدّثنا وهب بن بَقيَّة، حدّثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن عبد الله بن فَضَالة، عن أبيه قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ، فكان فيما علَّمني: "حافِظْ على الصلواتِ الخمس" فقلت: إنَّ هذه ساعاتٍ لي فيها أشغال، فمُرْني بأمرٍ جامع إذا أنا فعلتُه أجزأ عني، فقال: "حافِظْ على العصرَين"، وما كانت من لغتنا، فقلت: وما العَصرانِ؟ قال: "صلاةٌ قبل طلوع الشمس، وصلاةٌ قبلَ غُروبها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعبد الله: هو ابن فَضَالة بن عُبيد، وقد خُرِّج له في "الصحيح" حديثان. [2 - باب في فضل الصلوات الخمس]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 717 - على شرط مسلم_x000D_ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے والد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (دین) سکھایا، اور جو کچھ آپ ﷺ نے مجھے سکھایا اس میں یہ بھی تھا کہ: ”پانچوں نمازوں کی پابندی کرو۔“ میں نے عرض کیا: ان اوقات میں میری کچھ مصروفیات ہوتی ہیں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ مجھے (فرض کی ادائیگی کے لیے) کافی ہو جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عصرین (دو عصروں) کی پابندی کرو۔“ یہ ہماری لغت میں استعمال نہیں ہوتا تھا، میں نے پوچھا: ”عصرین“ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک نماز سورج طلوع ہونے سے پہلے (فجر) اور ایک نماز سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب الصلاة / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 721] [ترقيم الشركة 714] [ترقيم العلميه 717]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن. وقد سلف برقم (50 - 51).
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، اور یہ روایت اس سے پہلے نمبر (50-51) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 721 سے ماخوذ ہے۔