مستدرکِ حاکم
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ باب: پانچ فرض نمازوں کی فضیلت کے بیان کا باب۔
حدَّثناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا سهل بن مهران الدقَّاق، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حدثنا سوَّار بن داود أبو حمزة، حدثنا عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله ﷺ: "مُرُوا الصِّبيان بالصلاةِ لسبعِ سنين، واضرِبُوهم عليها في عشرِ سنين، وفَرَّقوا بينهم في المَضاجِع" (1)
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں اس (کے ترک) پر انہیں مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے عمرو بن شعیب کو ثقہ قرار دیا ہے، اور امام اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا ثقہ ہو تو یہ روایت نافع عن ابن عمر کی طرح قوی ہے۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: عمرو بن شعيب ثقة. قال الحاكم: وإنما قالوا في هذه الترجمة للإرسال، فإنه عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وشعيبٌ لم يسمع من جدِّه عبد الله بن عمرو(2).
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عمرو بن شعیب ثقہ ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ نے اس سند پر کلام صرف مرسل ہونے کی وجہ سے کیا ہے، کیونکہ شعيب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے براہِ راست نہیں سنا۔
سمعتُ الأستاذ أبا الوليد يقول: سمعت الحسن بن سفيان يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحَنَظَلي يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر.
امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ اگر عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو یہ سند ثقاہت اور قوت میں «أَيُّوب عَنْ نَافِع عَنْ ابْن عُمَر» کے برابر سمجھی جائے گی۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6689) و (6756)، وأبو داود (495) و (496) من طرق عن سوّار أبي حمزة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6689، 6756) اور امام ابو داود (495، 496) نے سوار ابو حمزہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔