المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ باب: پانچ فرض نمازوں کی فضیلت کے بیان کا باب۔
حدیث نمبر: 726M1
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: عمرو بن شعيب ثقة. قال الحاكم: وإنما قالوا في هذه الترجمة للإرسال، فإنه عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، وشعيبٌ لم يسمع من جدِّه عبد الله بن عمرو(2).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عمرو بن شعیب ثقہ ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ نے اس سند پر کلام صرف مرسل ہونے کی وجہ سے کیا ہے، کیونکہ شعيب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے براہِ راست نہیں سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تابع المصنف في هذا قولَ ابن حبان في "الثقات" حيث نَفَى سماع شعيب من جدِّه عبد الله بن عمرو، وهو قول مردود - كما قال الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب". وقد أثبت سماعه منه شيخُ الصَّنعة الإمام البخاريُّ وأبو داود وغيرهما كما في ترجمته من "تهذيب الكمال" للحافظ المزِّي.
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) نے اس معاملے میں ابن حبان کے قول کی پیروی کی ہے جنہوں نے شعیب کا اپنے دادا عبد اللہ بن عمرو سے سماع کا انکار کیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ قول مردود ہے۔ فنِ حدیث کے امام، بخاری اور ابو داود وغیرہ نے ان کے سماع کو ثابت مانا ہے، جیسا کہ امام مزی کی 'تہذیب الکمال' میں مذکور ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) نے اس معاملے میں ابن حبان کے قول کی پیروی کی ہے جنہوں نے شعیب کا اپنے دادا عبد اللہ بن عمرو سے سماع کا انکار کیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ قول مردود ہے۔ فنِ حدیث کے امام، بخاری اور ابو داود وغیرہ نے ان کے سماع کو ثابت مانا ہے، جیسا کہ امام مزی کی 'تہذیب الکمال' میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 726 سے ماخوذ ہے۔