کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سب سے افضل اعمال میں سے نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
حدَّثَناه علي بن عيسى في آخرين قالوا: حدّثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدّثنا بُندارٌ، حدّثنا عثمان بن عمر، حدّثنا مالك بن مِغوَل، عن الوليد بن العَيْزار، عن أبي عمرو الشَّيباني، عن عبد الله بن مسعود قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ: أيُّ العمل أفضلُ؟ قال: "الصلاةُ في أوَّل وقتِها" (2). فقد صحَّت هذه اللفظةُ باتفاق الثقتين بُندار بن بشَّار والحسن بن مَكرَم على روايتهما عن عثمان بن عمر، وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهدُ في هذا الباب، منها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ”کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ لفظ بندار اور حسن بن مکرم کے اتفاق سے ثابت ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ لفظ بندار اور حسن بن مکرم کے اتفاق سے ثابت ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
ما حدَّثَناه أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، حدّثنا محمد بن الحسن بن مُكرَم، حدّثنا حجَّاج بن الشاعر، حدّثنا علي بن حفص المدائني، حدّثنا شعْبة، عن الوليد بن العَيْزار قال: سمعت أبا عمرو الشَّيباني قال: حدّثنا صاحبُ هذه الدار - وأشار إلى دار عبد الله بن مسعود - ولم يُسمِّه قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ: أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال: "الصلاةُ في أوَّل وقتِها" قلت: ثم ماذا؟ قال: "الجهادُ في سبيل الله" قلت: ثم ماذا؟ قال: "بِرُّ الوالدَين"، ولو استزدتُه لزادَني (1). قد روي هذا الحديثَ جماعة عن شعبة، ولم يذكر هذه اللفظةَ غيرُ حجَّاج ابن الشاعر عن علي بن حفص، وحجَّاجٌ حافظ ثقة، وقد احتَجَّ مسلم بعلي بن حفص المدائني. ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ”کون سے اعمال سب سے افضل ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ بھلائی کرنا۔“ (ابن مسعود کہتے ہیں) اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ ﷺ مزید جواب دیتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ حجاج بن شاعر ثقہ حافظ ہیں اور امام مسلم نے ان کے استاد علی بن حفص سے احتجاج کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ حجاج بن شاعر ثقہ حافظ ہیں اور امام مسلم نے ان کے استاد علی بن حفص سے احتجاج کیا ہے۔
ما حدّثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدّثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حدّثنا محمد بن المثنَّى، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شعبة، أخبرني عُبَيْدٌ المُكتِب قال: سمعت أبا عمرو الشَّيباني يحدَّث عن رجلٍ من أصحاب النبيّ ﷺ قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ: أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال: "الصلاةُ في أوَّل وقتِها" (1). الرجل هو عبد الله بن مسعود، لإجماع الرُّواة فيه على أبي عمرو الشَّيباني. ومنها:
حافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: ”کون سے اعمال سب سے افضل ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہاں راوی کا نام عبد اللہ بن مسعود ہے کیونکہ تمام راویوں کا ابو عمرو شیبانی پر اسی پر اتفاق ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہاں راوی کا نام عبد اللہ بن مسعود ہے کیونکہ تمام راویوں کا ابو عمرو شیبانی پر اسی پر اتفاق ہے۔
ما أخبرَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدّثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي بمِصْر، حدّثنا علي بن مَعبَد، حدّثنا يعقوب بن الوليد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "خيرُ الأعمال الصلاةُ في أوّل وقتِها" (2). يعقوب بن الوليد هذا شيخٌ من أهل المدينة، سكن بغدادَ، وليس من شرط هذا الكتاب، إلّا أنَّ له شاهدًا. عن عبيد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 678 - يعقوب كذاب يعني يعقوب بن الوليد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 678 - يعقوب كذاب يعني يعقوب بن الوليد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین اعمال میں سے نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ یعقوب بن ولید اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ان کا شاہد موجود ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ یعقوب بن ولید اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ان کا شاہد موجود ہے۔
حدَّثني أبو عمرو محمد بن أحمد بن إسحاق العَدْل النَّحْوي، حدّثنا محمد بن علي بن الحسن الرَّقِّي، حدّثنا إبراهيم بن محمد بن صَدَقة العامري في كِنْدةَ في مجلس الأشجِّ، حدّثنا محمد بن حِمْيَر الحِمصي، عن عُبيد الله بن عمر العُمَري، عن نافع، عن ابن عمر قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ: أيُّ العمل أفضلُ؟ قال: "الصلاةُ في أوَّل وقتِها" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: ”کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“
ما حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدّثنا أبو سَلَمة منصور بن سَلَمة الخُزاعي، حدّثنا عُبيد الله بن عمر العُمَري، عن القاسم بن غنَّام، عن جدَّته الدُّنيا، عن جدته أمّ فَرْوة - وكانت ممن بايعت النبيَّ ﷺ، وكانت من المهاجرات الأُوَل - أنها سمعت النبيَّ ﷺ وسُئِلَ عن أفضلِ الأعمال، فقال: "الصلاةُ لأوَّل وقتِها" (2).
هذا حديث رواه الليث بن سعد والمعتمِر بن سليمان وقَزَعة بن سُوَيد ومحمد بن بِشْر العَبْدي عن عبيد الله بن عمر عن القاسم بن غنَّام. أما حديث الليث بن سعد:
هذا حديث رواه الليث بن سعد والمعتمِر بن سليمان وقَزَعة بن سُوَيد ومحمد بن بِشْر العَبْدي عن عبيد الله بن عمر عن القاسم بن غنَّام. أما حديث الليث بن سعد:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا (جو کہ ہجرت کرنے والی پہلی خواتین میں سے تھیں) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ سے بہترین اعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“
یہ حدیث لیث بن سعد، معتمر بن سلیمان اور ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر کے واسطے سے روایت کی ہے۔
یہ حدیث لیث بن سعد، معتمر بن سلیمان اور ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر کے واسطے سے روایت کی ہے۔
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدّثنا أحمد بن عبد الرحمن بن محمد بن الحسن المَعافِري بمصر، حدّثنا علي بن عبد الرحمن عَلَّان، حدّثنا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدّثنا الليث بن سعد، عن عُبيد الله بن عمر، عن القاسم بن غنَّام الأنصاري، عن جدَّته أمّ أبيه الدنيا، عن أمّ فَرْوة جدَّتِه، عن رسول الله ﷺ، نحوَه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: قد رَوَى عبدُ الله بن عمر عن القاسم بن غنَّام ولم يروِ عنه أخوه عُبيد الله بن عمر.
حافظ طلحہ بابر
امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر نے قاسم بن غنام سے روایت کی ہے جبکہ ان کے بھائی عبید اللہ نے ان سے روایت نہیں کی۔
حدّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدّثنا هاشم بن القاسم، حدّثنا الليث بن سعد، عن أبي النَّضْر، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: ما صلَّى رسولُ الله ﷺ الصلاةَ لوقتها الآخِرِ حتى قَبَضَه الله (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وعند الليث فيه إسنادٌ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 682 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وعند الليث فيه إسنادٌ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 682 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک کبھی نماز کو اس کے آخری وقت میں ادا نہیں فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدّثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدّثنا قُتيبة بن سعيد، حدّثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن إسحاق ابن عمر، عن عائشة قالت: ما صلَّى رسولُ الله ﷺ الصلاة لوقتها الآخِرِ مَرَّتَين حتى قبَضَه الله (1). وله شاهد آخر من حديث الواقِديِّ، وليس من شرط هذا الكتاب:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک کبھی کسی نماز کو اس کے آخری وقت میں دو بار ادا نہیں فرمایا۔
أخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدّثنا محمد بن علي (2) الأزرق، حدّثنا محمد بن عمر، حدّثنا رَبِيعة بن عثمان، عن عِمْران بن أبي أنس، عن أبي سَلَمة، عن عائشة قالت: ما رأيتُ رسولَ الله ﷺ أَخَّر صلاةً إلى الوقت الآخِرِ حتى قَبَضَه الله (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کسی نماز کو اس کے آخری وقت تک مؤخر کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ روایت واقدی کی حدیث سے شاہد کے طور پر ہے جو اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ روایت واقدی کی حدیث سے شاہد کے طور پر ہے جو اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔