المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
أفضل الأعمال الصلاة في أول وقتها باب: سب سے افضل اعمال میں سے نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 695
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدّثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدّثنا قُتيبة بن سعيد، حدّثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن إسحاق ابن عمر، عن عائشة قالت: ما صلَّى رسولُ الله ﷺ الصلاة لوقتها الآخِرِ مَرَّتَين حتى قبَضَه الله (1). وله شاهد آخر من حديث الواقِديِّ، وليس من شرط هذا الكتاب:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک کبھی کسی نماز کو اس کے آخری وقت میں دو بار ادا نہیں فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن عمر، ثم إنه لم يدرك عائشة فيما ذكر الترمذيّ والبيهقي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں اسحاق بن عمر مجہول (نامعلوم) راوی ہے، مزید یہ کہ امام ترمذی اور بیہقی کے مطابق اس کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات (سماع) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (24614)، والترمذيّ (174) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 41/ (24614) اور امام ترمذی (174) نے قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں اسحاق بن عمر مجہول (نامعلوم) راوی ہے، مزید یہ کہ امام ترمذی اور بیہقی کے مطابق اس کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات (سماع) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (24614)، والترمذيّ (174) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 41/ (24614) اور امام ترمذی (174) نے قتیبہ بن سعید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 695 سے ماخوذ ہے۔