حدیث نمبر: 686
حدّثنا أبو عمرو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله السَّمَّاك الثقة المأمون ببغداد، حدّثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز. وحدثنا علي بن عيسى، حدّثنا أبو العباس محمد بن إسحاق، حدّثنا الحسن بن مُكرَم، حدّثنا عثمان بن عمر، حدّثنا مالك بن مِغوَل، عن الوليد بن العَيْزار، عن أبي عمرو الشَّيباني، عن عبد الله قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ: أيُّ العمل أفضلُ؟ قال: "الصلاةُ في أوَّل وقتِها" قلت: ثم أيّ؟ قال: "الجهادُ في سبيلِ الله" قلت: ثم أيّ؟ قال: "بِرُّ الوالدَين" (1).
هذا حديث يُعرَف بهذا اللفظ بمحمد بن بشَّار بُندارٍ عن عثمان بن عمر، وبُندارٌ من الحفَّاظ المتقنين الأثبات:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 674 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ”کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بندار کی روایت سے جانی جاتی ہے اور بندار پختہ حافظ ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب الصلاة / حدیث: 686
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو عمرو الشيباني: هو سعد بن إياس، وعبد الله: هو ابن مسعود» [ترقيم الرساله 686] [ترقيم الشركة 679] [ترقيم العلميه 674]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عمرو الشيباني: هو سعد بن إياس، وعبد الله: هو ابن مسعود. وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: 'ابو عمرو الشیبانی' سے مراد سعد بن ایاس ہیں، اور 'عبد اللہ' سے مراد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 686 سے ماخوذ ہے۔