أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني عبد الرزاق، أخبرنا إسرائيل، عن عامر بن شَقِيق، عن شقيق بن سَلَمة قال: رأيتُ عثمانَ توضَّأ فغَسَلَ وجهَه واستنشقَ ومَضمَضَ ثلاثًا، ومسح برأسه وأُذنيه ظاهرِهما وباطنِهما، وخلَّلَ لحيته ثلاثًا حين غَسَلَ وجهَه قبل أن يَغسِلَ قدميه، ثم قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يفعل الذي رأيتموني فعلتُ (1). قد اتَّفق الشيخان (2) على إخراج طرقٍ لحديث عثمان في ذِكْر وضوئه، ولم يَذكُرا في رواياتهما تخليلَ اللحية ثلاثًا، وهذا إسناد صحيح قد احتجَّا بجميع رُوَاته غيرَ عامر بن شقيق، ولا أعلمُ في عامر بن شقيق طعنًا بوجه من الوجوه. وله في تخليل اللحية شاهدٌ صحيح عن عمَّار بن ياسر وأنس بن مالك وعائشة. أما حديث عمَّار:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 527 - ضعفه ابن معين ثم قال وله شاهد صحيح أَمَّا حَدِيثُ عَمَّارٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 527 - ضعفه ابن معين ثم قال وله شاهد صحيح أَمَّا حَدِيثُ عَمَّارٍ
حافظ طلحہ بابر
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا، اپنا چہرہ دھویا، تین بار ناک میں پانی ڈالا اور کلی کی، اپنے سر اور کانوں کے ظاہر و باطن کا مسح کیا، اور چہرہ دھوتے وقت پاؤں دھونے سے پہلے تین بار اپنی داڑھی کا خلال کیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے دیکھا۔
یہ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے عامر بن شقیق کے، اور ان پر کوئی جرح معلوم نہیں، اس کا شاہد سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا انس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
یہ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے سوائے عامر بن شقیق کے، اور ان پر کوئی جرح معلوم نہیں، اس کا شاہد سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا انس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي. وأخبرني محمد بن الحسين المنصوري، حدثنا هارون بن يوسف، حدثنا ابن أبي عمر؛ قالا: حدثنا سفيان، عن عبد الكريم الجَزَري (3)، عن حسَّان بن بلال: أنه رأَى عمَّارَ بن ياسر يتوضَّأُ فخَلَّلَ لحيتَه، فقيل له: تخلِّلُ لحيتَك؟ فقال: وما يَمنعُني وقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ يخلِّلُ لحيتَه. قال سفيان: وحدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن حسَّان بن بلال، عن عمَّار، عن رسول الله ﷺ نحوَه (4). وأما حديث أنس بن مالك:
حافظ طلحہ بابر
حسان بن بلال بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنی داڑھی کا خلال کیا، ان سے پوچھا گیا: ”کیا آپ داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ کرنے سے کون روک سکتا ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔“
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا محمد بن وهب بن أبي كَرِيمة، حدثنا محمد بن حرب، عن الزُّبيدي، عن الزُّهري، عن أنس بن مالك، قال: رأيت النبي ﷺ توضَّأَ وخلَّلَ لحيتَه بأصابعه من تحتها، وقال: "بهذا أَمَرني ربي" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنی انگلیوں سے اپنی داڑھی کے نیچے سے خلال کیا، اور فرمایا: ”میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔“
وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا محمد بن وهب، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا إبراهيم بن محمد الفَزَاري، عن موسى بن أبي عائشة، عن أنس بن مالك قال: رأيت النبيَّ ﷺ توضَّأَ وخلَّلَ لحيتَه وقال: "بهذا أمرَني ربي" (2). وأما حديث عائشة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا اور فرمایا: ”میرے رب نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔“
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا هلال بن فيَّاض، حدثنا عمر بن أبي وهب، عن موسى بن ثَرْوان، عن طلحة بن عُبيد الله بن كَرِيز، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا توضَّأَ خلَّلَ (1). وهذا شاهد صحيح في مسح باطن الأُذنين:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے تو داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔