حدیث نمبر: 537
وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا محمد بن وهب، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا إبراهيم بن محمد الفَزَاري، عن موسى بن أبي عائشة، عن أنس بن مالك قال: رأيت النبيَّ ﷺ توضَّأَ وخلَّلَ لحيتَه وقال: "بهذا أمرَني ربي" (2). وأما حديث عائشة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا اور فرمایا: ”میرے رب نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لإعضاله
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لإعضاله، بين موسى بن أبي عائشة وأنس فيه رجلان، فقد رواه أبو حاتم الرازي - كما في "علل الحديث" لابنه (84) -عن أحمد بن عبد الله بن يونس، عن الحسن بن صالح، عن ، موسى بن أبي عائشة عن رجل، عن يزيد بن أبان الرقاشي، عن أنس رفعه- ...» [ترقيم الرساله 537] [ترقيم الشركة 532]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لإعضاله، بين موسى بن أبي عائشة وأنس فيه رجلان، فقد رواه أبو حاتم الرازي - كما في "علل الحديث" لابنه (84) -عن أحمد بن عبد الله بن يونس، عن الحسن بن صالح، عن

موسى بن أبي عائشة عن رجل، عن يزيد بن أبان الرقاشي، عن أنس رفعه. ويزيد الرقاشي ضعيف، وقال أبو حاتم في حديث الفزاري عن ابن أبي عائشة: غير محفوظ. قلنا: والرجل المبهم في إسناده هو زيد بن أبي أنيسة، وقع مسمًّى عند ابن عدي في "الكامل" 2/ 137 في ترجمة جعفر بن الحارث أبي الأشهب.

درجۂ حدیث: اس کی سند "اعضال" (سند میں دو راویوں کے گرنے) کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ موسیٰ بن ابی عائشہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے درمیان دو آدمی ساقط ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابوحاتم رازی نے اسے "علل الحدیث" (84) میں یزید بن ابان الرقاشی کے واسطے سے روایت کیا ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔ ابوحاتم نے اسے "غیر محفوظ" قرار دیا ہے۔
اہم نکتہ: سند میں موجود وہ "مبہم شخص" جس کا نام ذکر نہیں ہوا، وہ زید بن ابی انیسہ ہے، جیسا کہ ابن عدی کی "الکامل" (2/ 137) میں جعفر بن حارث کے ترجمہ میں اس کی صراحت ملتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 537 سے ماخوذ ہے۔