کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وضو کو اچھی طرح مکمل کرنے، انگلیوں کے خلال کرنے اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھانے کا حکم۔
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز (3) ببغداد، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُريج، حدثني إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه - وكان وافدَ بني المُنتفِق -: أنه أتى عائشةَ هو وصاحبٌ له يَطلُبانِ رسولَ الله ﷺ فلم يَجِدَاه، فأطعَمَتهما عائشةُ تمرًا وعَصِيدًا، فلم يَلبَثا أن جاء رسولُ الله ﷺ يَتقلَّعُ (4) يَتكفَّأُ ﷺ، فقال: "هل أطعَمَكما أحدٌ؟ " فقلت: نعم يا رسول الله، ثم قلت: يا رسول الله، أخبِرنا عن الصلاة، قال: "أَسبغِ الوضوءَ، وخَلِّلِ الأصابع، وإذا استنشقتَ فبالِغْ إلّا أن تكون صائمًا" (1). وأما حديث داود بن عبد الرحمن العطَّار:
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے لیکن آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کھجوریں اور دلیا کھلایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ رسول اللہ ﷺ وقار کے ساتھ تشریف لائے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کسی نے تمہیں کھانا کھلایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں وضو کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں کا خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 530
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 530] [ترقيم الشركة 525]
فأخبرَناه جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا محمد بن علي بن زيد (2) المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطَّار، عن إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا استنشقتَ فبالِغْ إلّا أن تكون صائمًا، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كما تضربُ أَمَتَك" (3). وأما حديث يحيى بن سُلَيم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم ناک میں پانی ڈالو تو مبالغہ کیا کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جیسے اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 531
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 531] [ترقيم الشركة 526]
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا يحيى بن سُلَيم، عن إسماعيل بن كَثير قال: سمعت عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، يحدِّث عن أبيه قال: كنت وافدَ بني المُنتفِق إلى رسول الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، أخبِرني عن الوضوء، فقال: "أَسبغِ الوُضوءَ، وخلِّلْ بين الأصابع، وبالِغْ في الاستنشاق إلّا أن تكون صائمًا" (1). ولهذا الحديث شاهد عن ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں بنو منتقق کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو اچھی طرح (کامل) کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 532
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم: وهو الطائفي» [ترقيم الرساله 532] [ترقيم الشركة 527]
أخبرَناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا ابن أبي ذِئْب عن قارِظ بن عبد الرحمن (2)، عن أبي غَطَفان المُرِّي، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "استَنثِروا مرَّتين بالِغَتين أو ثلاثًا" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 526 - هذا شاهد لخبر لقيط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ناک میں مبالغے کے ساتھ دو یا تین مرتبہ پانی ڈال کر جھاڑا کرو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 533
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل خالد بن مخلد وقارظ بن شيبة» [ترقيم الرساله 533] [ترقيم الشركة 528] [ترقيم العلميه 526]