المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
تَخْلِيلُ اللِّحْيَةِ ثَلَاثًا باب: داڑھی کے خلال کو تین بار کرنا۔
حدیث نمبر: 538
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا هلال بن فيَّاض، حدثنا عمر بن أبي وهب، عن موسى بن ثَرْوان، عن طلحة بن عُبيد الله بن كَرِيز، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا توضَّأَ خلَّلَ (1). وهذا شاهد صحيح في مسح باطن الأُذنين:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے تو داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد قوي إن كان طلحة بن عبيد الله بن كريز سمعه من عائشة، فإنه من أقران الزهري، وطبقتهما تَصغُر عن الرواية عن عائشة، ولا تروي عن أحد من الصحابة إلّا من تأخرت وفياتهم، والله تعالى أعلم، وقد حسَّن الحافظ ابن حجر هذا الإسناد في "التلخيص الحبير" 1/ 86.
درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ طلحہ بن عبید اللہ بن کریز نے اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے تو یہ سند قوی ہے، کیونکہ طلحہ امام زہری کے ہم عصر ہیں اور ان کا طبقہ حضرت عائشہ سے براہ راست روایت کے لحاظ سے چھوٹا ہے (یہ صرف معمر صحابہ سے روایت کرتے ہیں)۔
حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" (1/ 86) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (25970) و (25971) من طريقين عن عمر بن أبي وهب، بهذا الإسناد. وفيه عنده: خلل لحيته بالماء.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (43/ 25970، 25971) میں عمر بن ابی وہب کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: ان روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ "آپ ﷺ نے پانی سے اپنی داڑھی کا خلال کیا"۔
درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ طلحہ بن عبید اللہ بن کریز نے اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے تو یہ سند قوی ہے، کیونکہ طلحہ امام زہری کے ہم عصر ہیں اور ان کا طبقہ حضرت عائشہ سے براہ راست روایت کے لحاظ سے چھوٹا ہے (یہ صرف معمر صحابہ سے روایت کرتے ہیں)۔
حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" (1/ 86) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (25970) و (25971) من طريقين عن عمر بن أبي وهب، بهذا الإسناد. وفيه عنده: خلل لحيته بالماء.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (43/ 25970، 25971) میں عمر بن ابی وہب کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: ان روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ "آپ ﷺ نے پانی سے اپنی داڑھی کا خلال کیا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 538 سے ماخوذ ہے۔