حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن موسى الرازيُّ، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، حدثنا شُعْبة، عن حَبِيب بن زيد، عن عبَّاد بن تميم، عن عبد الله بن زيد: أنَّ النبي ﷺ أُتِيَ بثُلُثي مُدٍّ من ماء فتوضَّأَ، فجعل يَدلُك ذراعَيهِ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 509 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 509 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مد کا دو تہائی (تقریباً آدھا کلو) پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے دونوں بازوؤں کو ملنے لگے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن المَدِيني. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي؛ قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: وأخبرني عُرْوة، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه: "صُبُّوا عليَّ من سبعِ قِرَبٍ لم تُحلَلْ أَوكِيَتُهنَّ، لعلِّي أَعهَدُ إلى الناس" قالت عائشة: فأجلسناه في مِخضَب لحفصة من نحاس، وسَكَبْنا عليه الماءَ، فطَفِقَ يشير إلينا: أن قد فَعَلتُنَّ، ثم خرج (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لأنَّ هشام بن يوسف الصَّنعاني ومحمد بن حُميد المَعمَري لم يذكرا عَمْرة في إسناده. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 510 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ هِشَامٍ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لأنَّ هشام بن يوسف الصَّنعاني ومحمد بن حُميد المَعمَري لم يذكرا عَمْرة في إسناده. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 510 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ هِشَامٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں سے پانی بہاؤ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں، تاکہ میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے ٹب میں بٹھایا اور آپ ﷺ پر پانی ڈالا، تو آپ ﷺ ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ بس تم نے اپنا کام کر دیا (یعنی اب کافی ہے)، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن یوسف اور محمد بن حمید نے اس کی سند میں سیدہ عمرہ کا ذکر نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن یوسف اور محمد بن حمید نے اس کی سند میں سیدہ عمرہ کا ذکر نہیں کیا۔
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا ........ (2) عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي قُبِضَ فيه: "صُبُّوا عليَّ من سبع قِرَبٍ" (1). وأما حديث أبي سفيان المَعْمري:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی روح قبض کی گئی، فرمایا: ”مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی بہاؤ۔“
یہ سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن حُميد، عن مَعمَر، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه: "صُبُّوا عليَّ من سبع قِرَبٍ" (2). كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا: ”مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی بہاؤ۔“
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔