حدیث نمبر: 516
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن المَدِيني. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي؛ قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: وأخبرني عُرْوة، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه: "صُبُّوا عليَّ من سبعِ قِرَبٍ لم تُحلَلْ أَوكِيَتُهنَّ، لعلِّي أَعهَدُ إلى الناس" قالت عائشة: فأجلسناه في مِخضَب لحفصة من نحاس، وسَكَبْنا عليه الماءَ، فطَفِقَ يشير إلينا: أن قد فَعَلتُنَّ، ثم خرج (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لأنَّ هشام بن يوسف الصَّنعاني ومحمد بن حُميد المَعمَري لم يذكرا عَمْرة في إسناده. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 510 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ هِشَامٍ
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، فرمایا: ”مجھ پر سات ایسے مشکیزوں سے پانی بہاؤ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں، تاکہ میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے ٹب میں بٹھایا اور آپ ﷺ پر پانی ڈالا، تو آپ ﷺ ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ بس تم نے اپنا کام کر دیا (یعنی اب کافی ہے)، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن یوسف اور محمد بن حمید نے اس کی سند میں سیدہ عمرہ کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 516
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، على خلاف وقع فيه على عبد الرزاق لا يضر إن شاء الله» [ترقيم الرساله 516] [ترقيم الشركة 512] [ترقيم العلميه 510]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح على خلاف وقع فيه على عبد الرزاق لا يضر إن شاء الله. وهو في "مسند أحمد" 42/ (25179)، لكن وقع فيه: الزهري عن عروة أو عمرة عن عائشة. وانظر تفصيل تخريج طرقه فيه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اگرچہ عبدالرزاق بن ہمام پر (سند کی ترتیب میں) کچھ اختلاف ہوا ہے مگر وہ ان شاء اللہ مضر نہیں ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" 42/ (25179) میں موجود ہے، تاہم وہاں سند یوں ہے: زہری، عروہ یا عمرہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے مختلف طرق کی تفصیلی تخریج وہیں مسند احمد کے حاشیے میں ملاحظہ کریں۔
وأخرجه ابن حبان (6596) و (6600) من طريق عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري؛ قال في الموضع الأول: عن عروة أو عمرة، وقال في الثاني: عن عروة وعمرة أحدهما أو كلاهما.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6596) اور (6600) میں عبدالرزاق کے واسطے سے، انہوں نے معمر بن راشد سے، انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: پہلے مقام پر انہوں نے "عروہ یا عمرہ" (شک کے ساتھ) کہا، جبکہ دوسرے مقام پر "عروہ اور عمرہ، ان میں سے ایک یا دونوں" کے الفاظ کہے۔
وأخرجه النسائي (7045) من طريق عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7045) میں عبدالرزاق کے واسطے سے، انہوں نے معمر، انہوں نے زہری، انہوں نے عروہ بن زبیر اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي أيضًا (7045) من طريق يحيى بن معين وابن حبان (6599) من طريق علي بن المديني، كلاهما عن هشام بن يوسف الصنعاني، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے (7045) میں یحییٰ بن معین کے طریق سے اور ابن حبان نے (6599) میں علی بن مدینی کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں ہشام بن یوسف صنعانی سے، وہ معمر سے، وہ زہری سے، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البخاري (198) و (4442) و (5714) من طرق عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے (198)، (4442) اور (5714) میں مختلف طرق سے امام زہری کے واسطے سے روایت کیا ہے، جو عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
المِخضب: إناء واسع.
نوٹ / توضیح: "المخضب" سے مراد ایک چوڑا اور بڑا برتن ہے (جس میں کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں)۔
والأوكية: جمع وكاء، وهو ما يشدُّ به فم القِربة.
نوٹ / توضیح: "الاوکیہ" یہ لفظ 'وکاء' کی جمع ہے، اس سے مراد وہ تسمہ یا رسی ہے جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 516 سے ماخوذ ہے۔