أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الرَّبيع؛ قالا: حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا أيوب، عن أبي قِلَابة: أَنَّ أَبا ثَعْلبة (1) الخُشَني أتى النبيَّ ﷺ فقال: قلت: يا رسول الله، إنا بأرضٍ أرضِ أهل كتابٍ، يشربون الخمور ويأكلون الخنازير، فما ترى في آنيَتِهم وقُدورِهم؟ فقال: "دَعُوها ما وجدتُم عنها بُدًّا، فإذا لم تَجِدُوا عنها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء" أو قال: "انضَحُوها بالماء"، ثم قال: "اطبُخُوا فيها وكُلُوا". قال حماد: وأحسَبُه قال: "واشرَبوا" (2). وهكذا رواه شعبة عن أيوب:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ شراب پیتے ہیں اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں، تو ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور متبادل مل سکے تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو لو،“ یا فرمایا: ”ان پر پانی چھڑک لو، پھر ان میں پکاؤ اور کھاؤ۔“ حماد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اور پیو۔“
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب وأحمد بن عمر بن حفص قالوا: حدثنا عَمْرو بن مرزوق، أخبرنا شُعْبة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثَعْلبة الخُشَني: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: إنا بأرضٍ عامَّتُه أهلُ كتاب، فكيف نَصنَعُ بآنيَتِهم؟ فقال: "دَعُوا ما وجدتُم منها بُدًّا، فإذا لم تجِدُوا منها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا" (1). وهكذا رواه خالد الحذَّاء عن أبي قِلابة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں کی اکثر آبادی اہل کتاب ہے، تو ہم ان کے برتنوں کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور صورت میسر ہو تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں پکاؤ۔“
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا نصر بن علي، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن خالدٍ، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألت النبيَّ ﷺ عن آنيةِ المشركين، فقال: "اغسِلُوها ثم اطبُخوا فيها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإن علَّلاه بحديث حمَّاد بن سَلَمة وهُشَيم عن خالد حيث زاد أبا أسماءَ الرَّحَبي في الإسناد، فإنه أيضًا صحيح يلزم إخراجه في "الصحيح"، على أنَّ أبا قِلابةَ قد سمع من أبي ثَعْلبة. أما حديث حمَّاد بن سَلَمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 504 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإن علَّلاه بحديث حمَّاد بن سَلَمة وهُشَيم عن خالد حيث زاد أبا أسماءَ الرَّحَبي في الإسناد، فإنه أيضًا صحيح يلزم إخراجه في "الصحيح"، على أنَّ أبا قِلابةَ قد سمع من أبي ثَعْلبة. أما حديث حمَّاد بن سَلَمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 504 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دھو لو پھر ان میں پکاؤ۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اگر اس کی علت حماد بن سلمہ اور ہشیم کی روایت کو قرار دیا جائے جس میں خالد نے سند میں ابواسماء رحبی کا اضافہ کیا ہے، تب بھی یہ صحیح ہے اور اسے صحیح میں نقل کرنا لازم ہے، مزید یہ کہ ابوقلابہ نے ابوثعلبہ سے سماع کیا ہوا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اگر اس کی علت حماد بن سلمہ اور ہشیم کی روایت کو قرار دیا جائے جس میں خالد نے سند میں ابواسماء رحبی کا اضافہ کیا ہے، تب بھی یہ صحیح ہے اور اسے صحیح میں نقل کرنا لازم ہے، مزید یہ کہ ابوقلابہ نے ابوثعلبہ سے سماع کیا ہوا ہے۔
فأخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو سَلَمة وحجَّاج بن مِنْهال قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماءَ الرَّحَبي، عن أبي ثعلبة الخُشَني أنه قال: يا رسول الله، إنا بأرضِ أهل الكتاب، فنَطَبُخُ في قُدورِهم، ونَشرَبُ في آنيتِهم؟ قال: "فإن لم تَجِدُوا غيرَها فارحَضُوها" (1). وأما حديث هُشَيم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں پکائیں اور ان کے برتنوں میں پییں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو لو۔“
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، عن خالد الحذّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماء [عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: إنّا نَغزو ونسير في أرض] (2) المشركين، فنحتاجُ إلى آنيةٍ من آنيتهم فنطبخُ فيها، فقال: "اغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا فيها، وانتفِعُوا بها" (3). كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ ہم مشرکین کے علاقے میں جنگ و سفر کی حالت میں ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا ہم ان میں پکائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں پانی سے دھو لو پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔