حدیث نمبر: 511
فأخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو سَلَمة وحجَّاج بن مِنْهال قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماءَ الرَّحَبي، عن أبي ثعلبة الخُشَني أنه قال: يا رسول الله، إنا بأرضِ أهل الكتاب، فنَطَبُخُ في قُدورِهم، ونَشرَبُ في آنيتِهم؟ قال: "فإن لم تَجِدُوا غيرَها فارحَضُوها" (1). وأما حديث هُشَيم:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں پکائیں اور ان کے برتنوں میں پییں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو لو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 511
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو سلمة: هو موسى بن إسماعيل التَّبُوذكي» [ترقيم الرساله 511] [ترقيم الشركة 507]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو سلمة: هو موسى بن إسماعيل التَّبُوذكي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو سلمہ سے مراد موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17750)، والترمذي (1797) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17750) اور ترمذی (1797) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقرن حماد بن سلمة بأيوب عند الترمذي، قتادةَ، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
تفصیلِ روایت: امام ترمذی کے ہاں حماد بن سلمہ کو (ان کے استاذ) قتادہ بن دعامہ سے روایت کرنے میں ایوب سختیانی کے ساتھ مقرون کیا گیا ہے (یعنی دونوں نے مل کر روایت کی ہے)۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حدیث حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قوله: "ارحضوها" أي: اغسلوها بالماء.
نوٹ / توضیح: قولِ مبارک "ارحضوها" کا لغوی و فنی مطلب یہ ہے کہ: "اسے پانی سے دھو ڈالو"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 511 سے ماخوذ ہے۔