حدیث نمبر: 509
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب وأحمد بن عمر بن حفص قالوا: حدثنا عَمْرو بن مرزوق، أخبرنا شُعْبة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثَعْلبة الخُشَني: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: إنا بأرضٍ عامَّتُه أهلُ كتاب، فكيف نَصنَعُ بآنيَتِهم؟ فقال: "دَعُوا ما وجدتُم منها بُدًّا، فإذا لم تجِدُوا منها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا" (1). وهكذا رواه خالد الحذَّاء عن أبي قِلابة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں کی اکثر آبادی اہل کتاب ہے، تو ہم ان کے برتنوں کا کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور صورت میسر ہو تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں پکاؤ۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 509
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح ك
تخریج حدیث «حديث صحيح كسابقه» [ترقيم الرساله 509] [ترقيم الشركة 505]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث پچھلی حدیث کی طرح صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ بن معاذ العنبری ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17731) عن محمد بن جعفر، والترمذي (1560) و (1796) من طريق سَلْم بن قتيبة، كلاهما عن شعبة، بهذا الإسناد - ولفظه في حديث سَلْم: "سئل رسول الله ﷺ عن قدور المجوس"، وهو شاذٌّ.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17731) اور امام ترمذی (1560، 1796) نے محمد بن جعفر اور سلم بن قتیبہ عن شعبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سلم بن قتیبہ کی روایت میں "مجوسیوں کی ہانڈیوں" کے بارے میں سوال کا ذکر ہے، جو کہ (دیگر روایات کے مقابلے میں) "شاذ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 509 سے ماخوذ ہے۔