المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ باب: اہلِ کتاب اور مشرکین کے برتنوں کے استعمال کا حکم۔
حدیث نمبر: 512
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، عن خالد الحذّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماء [عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: إنّا نَغزو ونسير في أرض] (2) المشركين، فنحتاجُ إلى آنيةٍ من آنيتهم فنطبخُ فيها، فقال: "اغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا فيها، وانتفِعُوا بها" (3). كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ ہم مشرکین کے علاقے میں جنگ و سفر کی حالت میں ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا ہم ان میں پکائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں پانی سے دھو لو پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ما بين المعقوفين مكانه بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 33 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
اہم نکتہ: عبارت میں بڑی بریکٹ [ ] کے درمیان جو متن ہے، وہ اصل خطی نسخوں میں خالی جگہ تھی، ہم نے اسے امام بیہقی کی "السنن الکبری" (1/ 33) سے مکمل کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے امام ابوعبداللہ الحاکم کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس روایت کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 22/ (581) من طريقين عن هشيم، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 22/ (581) میں ہشیم بن بشیر کے دو واسطوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
اہم نکتہ: عبارت میں بڑی بریکٹ [ ] کے درمیان جو متن ہے، وہ اصل خطی نسخوں میں خالی جگہ تھی، ہم نے اسے امام بیہقی کی "السنن الکبری" (1/ 33) سے مکمل کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے امام ابوعبداللہ الحاکم کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس روایت کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 22/ (581) من طريقين عن هشيم، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 22/ (581) میں ہشیم بن بشیر کے دو واسطوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 512 سے ماخوذ ہے۔