حدیث نمبر: 510
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا نصر بن علي، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن خالدٍ، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألت النبيَّ ﷺ عن آنيةِ المشركين، فقال: "اغسِلُوها ثم اطبُخوا فيها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإن علَّلاه بحديث حمَّاد بن سَلَمة وهُشَيم عن خالد حيث زاد أبا أسماءَ الرَّحَبي في الإسناد، فإنه أيضًا صحيح يلزم إخراجه في "الصحيح"، على أنَّ أبا قِلابةَ قد سمع من أبي ثَعْلبة. أما حديث حمَّاد بن سَلَمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 504 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دھو لو پھر ان میں پکاؤ۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اگر اس کی علت حماد بن سلمہ اور ہشیم کی روایت کو قرار دیا جائے جس میں خالد نے سند میں ابواسماء رحبی کا اضافہ کیا ہے، تب بھی یہ صحیح ہے اور اسے صحیح میں نقل کرنا لازم ہے، مزید یہ کہ ابوقلابہ نے ابوثعلبہ سے سماع کیا ہوا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 510
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهو مختصر ممّا قبله» [ترقيم الرساله 510] [ترقيم الشركة 506] [ترقيم العلميه 504]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهو مختصر ممّا قبله. أبو أحمد: هو الزُّبيري محمد بن عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور ماقبل روایت کا خلاصہ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو احمد سے مراد زبیری (محمد بن عبداللہ بن زبیر) اور سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 22/ (603) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 22/ (603) میں محمد بن یوسف فریابی عن سفیان کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 510 سے ماخوذ ہے۔