كما أخبرَناه دَعلَجُ بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا أبو أسامة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حدثنا محمد بن عثمان بن كَرَامة، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الماء وما يَنُوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال: "إذا كان الماءُ قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَثَ" (2). وهكذا رواه الشافعي في "المبسوط"، عن الثِّقة، وهو أبو أسامة بلا شكٍّ فيه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر درندے اور جانور باری باری آتے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو، تو وہ گندگی (نجاست) کو قبول نہیں کرتا (ناپاک نہیں ہوتا)۔“
امام شافعی نے بھی اپنی کتاب ”المبسوط“ میں اسے ثقہ راوی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ راوی بلاشبہ ابو اسامہ ہی ہیں۔
امام شافعی نے بھی اپنی کتاب ”المبسوط“ میں اسے ثقہ راوی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ راوی بلاشبہ ابو اسامہ ہی ہیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان. وأخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن سَلَامة الفقيه بمِصْر، حدثنا إسماعيل بن يحيى المُزَني؛ قالا: حدثنا الشافعي - وقال الربيع: أخبرنا الشافعي - أخبرنا الثِّقةُ، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا كان الماءُ قُلَّتينِ، لم يَحمِلْ نَجسًا - أو قال: خَبَثًا -" (1). هذا خلافٌ لا يُوهِنُ هذا الحديثَ، فقد احتجَّ الشيخان جميعًا بالوليد بن كثير ومحمدِ بن جعفر ومحمدِ بن عبَّاد بن جعفر (2)، وإنما قرنه أبو أسامة إلى محمد بن جعفر ثم حدَّث به مرّةً عن هذا ومرّةً عن ذاك. والدليل عليه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو، تو وہ نجاست (یا فرمایا گندگی) کو نہیں اٹھاتا۔“
اس روایت میں راویوں کے ناموں میں پایا جانے والا معمولی اختلاف اس حدیث کی صحت کو متاثر نہیں کرتا، کیونکہ شیخین نے ولید بن کثیر اور محمد بن جعفر دونوں سے احتجاج کیا ہے، اور ابو اسامہ کبھی ایک کا نام لیتے تھے اور کبھی دوسرے کا۔
اس روایت میں راویوں کے ناموں میں پایا جانے والا معمولی اختلاف اس حدیث کی صحت کو متاثر نہیں کرتا، کیونکہ شیخین نے ولید بن کثیر اور محمد بن جعفر دونوں سے احتجاج کیا ہے، اور ابو اسامہ کبھی ایک کا نام لیتے تھے اور کبھی دوسرے کا۔
ما حدَّثَنيهِ أبو علي محمد بن علي الإسفرايِني من أصل كتابه - وأنا سألتُه - حدثنا علي بن عبد الله بن مُبشِّر الواسطي، حدثنا شعيب بن أيوب، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كثير، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير ومحمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الماء وما يَنُوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال النبي ﷺ: "إذا كان الماء قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَث" (3). وقد صحَّ وثَبَتَ بهذه الرواية صحةُ الحديث، وظهر أنَّ أبا أسامة ساق الحديث عن الوليد بن كثير عنهما جميعًا، فإنَّ شعيب بن أيوب الصَّرِيفيني ثقة مأمون، وكذلك الطريق إليه. وقد تابع الوليدَ بنَ كثير على روايته عن محمد بن جعفر بن الزُّبير محمدُ بنُ إسحاق بن يَسَار القرشي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی اور جانوروں کے اس پر آنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“
اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابو اسامہ نے یہ حدیث ولید بن کثیر کے واسطے سے ان دونوں (محمد بن جعفر اور محمد بن عباد) سے سنی تھی، کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ اور مأمون راوی ہیں۔
اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابو اسامہ نے یہ حدیث ولید بن کثیر کے واسطے سے ان دونوں (محمد بن جعفر اور محمد بن عباد) سے سنی تھی، کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ اور مأمون راوی ہیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيٍّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر قال: سمعت النبي ﷺ وسُئِلَ عن الماء يكون بأرض الفَلَاة وما يَنوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال رسول الله ﷺ: "إذا كان الماءُ قَدْرَ قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَثَ" (1). وهكذا رواه سفيان الثَّوْري وزائدةُ بن قُدَامة وحَمَّاد بن سَلَمة وإبراهيم بن سعد وعبد الله بن المبارَك ويزيد بن زُرَيع وسعيد بن زيد أخو حماد بن زيد وأبو معاوية. وعَبْدة بن سليمان، قد حدَّث به عبدُ الله (2)، عن عُبيد الله بن عبد الله وعَبد الله جميعًا. وبصِحَّة ما ذكرتُه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سنا، جبکہ آپ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو چٹیل میدان میں ہو اور اس پر درندے آتے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کی مقدار کے برابر ہو، تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کو سفیان ثوری، زائدہ، حماد بن سلمہ اور ابن مبارک جیسے کبار ائمہ نے بھی محمد بن اسحاق کے واسطے سے روایت کیا ہے، جو اس کی صحت کی مزید دلیل ہے۔
اس حدیث کو سفیان ثوری، زائدہ، حماد بن سلمہ اور ابن مبارک جیسے کبار ائمہ نے بھی محمد بن اسحاق کے واسطے سے روایت کیا ہے، جو اس کی صحت کی مزید دلیل ہے۔
حدثنا أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن عبد الله قالا: أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا إبراهيم بن الحجّاج وهُدْبة بن خالد قالا: حدثنا حَمَّاد بن سَلَمة، عن عاصم بن المنذر بن الزُّبير قال: دخلتُ مع عُبيد الله بن عبد الله بن عمر بستانًا فيه مَقْرَى ماءٍ فيه جلدُ بعيرٍ ميت، فتوضأ منه، فقلت: أتتوضّأُ منه وفيه جلدُ بعيرٍ ميت؟ فحدَّثَني عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "إذا بَلَغَ الماءُ قُلَّتينِ - أو ثلاثًا - لم يُنجِّسْه شيءُ" (1). هكذا حُدِّثنا عن الحسن بن سفيان، وقد رواه عفَّانُ بن مسلم وغيرُه من الحُفَّاظ عن حماد بن سلمة ولم يذكروا فيه: أو ثلاثًا.
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن منذر بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر کے ساتھ ایک باغ میں داخل ہوا جہاں پانی کا ایک حوض تھا جس میں ایک مردار اونٹ کی کھال پڑی تھی، انہوں نے اسی سے وضو کیا؛ میں نے کہا: کیا آپ اس سے وضو کر رہے ہیں حالانکہ اس میں مردار اونٹ کی کھال ہے؟ انہوں نے اپنے والد (ابن عمر) کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ ”جب پانی دو یا تین مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حماد بن سلمہ کی روایت میں عفان بن مسلم وغیرہ نے ”یا تین“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ہیں۔
حماد بن سلمہ کی روایت میں عفان بن مسلم وغیرہ نے ”یا تین“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ہیں۔
أخبرنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا علي بن الحَسَن بن (2) بَيَان، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا حَرْب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير، حدثني عِيَاض قال: سألت أبا سعيد الخُدْريَّ فقلت: أحدُنا يصلّي فلا يدري كم صلَّى، قال: فقال: قال لنا رسول الله ﷺ: "إذا صلَّى أحدُكم فلم يَدْرِ كم صلَّى، فليَسجُدْ سجدتين وهو جالسٌ، وإذا جاء أحدَكم الشيطانُ فقال: إنك أحدثتَ، فليقل: كذبتَ، إلّا ما وَجَدَ رِيحًا بأنفه، أو سمع صوتًا بأُذنه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ عِياضًا هذا: هو ابن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح! وقد احتجَّا جميعًا به ولم يُخرجا هذا الحديث لخلافٍ من أبان بن يزيد العطَّار فيه عن يحيى بن أبي كثير، فإنه لم يحفظه فقال: عن يحيى عن هلال بن عِيَاض أو عياض بن هلال، وهذا لا يعلِّله، لإجماع يحيى بن أبي كثير على إقامة هذا الإسناد عنه، ومتابعة حرب بن شدّاد فيه، كذلك رواه هشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي وعلي بن المبارَك ومَعمَر بن راشد وغيرهم عن يحيى بن أبي كثير. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 464 - على شرطهما وتركاه لخلاف أبان العطار عن يحيى فإنه لم يحفظه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ عِياضًا هذا: هو ابن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح! وقد احتجَّا جميعًا به ولم يُخرجا هذا الحديث لخلافٍ من أبان بن يزيد العطَّار فيه عن يحيى بن أبي كثير، فإنه لم يحفظه فقال: عن يحيى عن هلال بن عِيَاض أو عياض بن هلال، وهذا لا يعلِّله، لإجماع يحيى بن أبي كثير على إقامة هذا الإسناد عنه، ومتابعة حرب بن شدّاد فيه، كذلك رواه هشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي وعلي بن المبارَك ومَعمَر بن راشد وغيرهم عن يحيى بن أبي كثير. أما حديث هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 464 - على شرطهما وتركاه لخلاف أبان العطار عن يحيى فإنه لم يحفظه.
حافظ طلحہ بابر
عیاض بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے مگر اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنا پڑھا ہے، تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے (سہو) کر لے؛ اور اگر کسی کے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو وہ (دل میں) کہے کہ تو جھوٹا ہے، الا یہ کہ وہ ناک سے بو محسوس کرے یا کان سے آواز سن لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے ان دونوں نے احتجاج کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے ان دونوں نے احتجاج کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن المِنهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عِيَاض: أنه سأل أبا سعيد الخُدْري، فذكر بنحوه (1). وأما حديث علي بن المبارك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی متن کے ساتھ (نماز میں شک اور وضو ٹوٹنے کے وسوسے کے بارے میں) ہشام اور علی بن مبارک کے طریق سے مروی ہے۔
یہ روایات یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اس حدیث کی صحت پر متفق ہیں۔
یہ روایات یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اس حدیث کی صحت پر متفق ہیں۔
فأخبرَناه محمد بن أحمد بن حَمدُون، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا سَلْم ابن جُنَادة، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن علي بن المبارَك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عِيَاض، فذكر بنحوه (1). وأما حديث مَعمَر:
حافظ طلحہ بابر
عیاض (بن عبداللہ) سے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت مروی ہے۔ (جس میں نماز میں شک اور وسوسوں کا ذکر ہے)۔
فأخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن يحيى، عن عِيَاض، فذكر نحوه (2). قد اتفق البخاري ومسلم على إخراج أحاديث متفرِّقة في المسندَين الصحيحين يُستدَلُّ بها على أن اللمس ما دونَ الجِماع، منها حديث أبي هريرة: "فاليد زناها اللمس" (3)، وحديث ابن عباس "لعلك مَسِستَ" (4)، وحديث ابن مسعود: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ﴾ [هود: 114] (5)، وقد بقي عليهما أحاديثُ صحيحة في التفسير وغيره منها:
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن ابی کثیر نے عیاض سے اسی طرح (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے ایسی مختلف احادیث پر اتفاق کیا ہے جن سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ”لمس“ (چھونے) سے مراد جماع (ہمبستری) کے علاوہ دیگر جسمانی تعلق ہے۔ ان میں ابوہریرہ کی حدیث ”ہاتھ کا زنا چھونا ہے“، ابن عباس کی حدیث ”شاید تم نے اسے چھوا ہوگا“ اور ابن مسعود کی آیت ”نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں“ والی تفسیری روایات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ صحیح احادیث ہیں جو ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت نہیں کیں، جو درج ذیل ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے ایسی مختلف احادیث پر اتفاق کیا ہے جن سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ”لمس“ (چھونے) سے مراد جماع (ہمبستری) کے علاوہ دیگر جسمانی تعلق ہے۔ ان میں ابوہریرہ کی حدیث ”ہاتھ کا زنا چھونا ہے“، ابن عباس کی حدیث ”شاید تم نے اسے چھوا ہوگا“ اور ابن مسعود کی آیت ”نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں“ والی تفسیری روایات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ صحیح احادیث ہیں جو ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت نہیں کیں، جو درج ذیل ہیں۔