المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
ذِكْرُ اخْتِلَافِ الرُّوَاةِ وَالْأَلْفَاظِ فِي حَدِيثِ الْقُلَّتَيْنِ باب: حدیثِ قلتین میں روایات اور الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 464
كما أخبرَناه دَعلَجُ بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا أبو أسامة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حدثنا محمد بن عثمان بن كَرَامة، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الماء وما يَنُوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال: "إذا كان الماءُ قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَثَ" (2). وهكذا رواه الشافعي في "المبسوط"، عن الثِّقة، وهو أبو أسامة بلا شكٍّ فيه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر درندے اور جانور باری باری آتے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو، تو وہ گندگی (نجاست) کو قبول نہیں کرتا (ناپاک نہیں ہوتا)۔“
امام شافعی نے بھی اپنی کتاب ”المبسوط“ میں اسے ثقہ راوی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ راوی بلاشبہ ابو اسامہ ہی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح كسابقه.
درجۂ حدیث: اس کی سند اپنے ماقبل (پچھلی روایت) کی طرح صحیح ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند اپنے ماقبل (پچھلی روایت) کی طرح صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 464 سے ماخوذ ہے۔