حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا إسرائيل، عن أبي حَصِين، عن يحيى بن وَثَّاب، عن مسروق، عن عبد الله: أنه حَدَّث يومًا عن رسول الله ﷺ، فارتعد وارتَعَدَت ثيابُه، ثم قال: أو نحو هذا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهدُ فيه عن عبد الله:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شواهدُ فيه عن عبد الله:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کی تو (خوفِ الٰہی سے) ان پر لرزہ طاری ہو گیا اور ان کے کپڑے کانپنے لگے، پھر انہوں نے (احتیاطاً) کہا: یا اسی طرح (آپ ﷺ نے فرمایا)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا علي بن حَكِيم، حدثنا شَرِيك. وأخبرنا علي بن عبد الله الحَكِيمي، حدثنا العباس الدُّوري، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حدثنا شَرِيك، عن أبي العُمَيس عُتْبة بن عبد الله، عن مسلم البَطِين، عن أبي عمرو الشَّيباني قال: كنت أجلِسُ إلى عبد الله بن مسعود حَوْلًا لا يقول: قال رسول الله ﷺ، فإذا قال: قال رسول الله ﷺ، استقبَلَته الرِّعْدةُ، ثم قال: بل كذا، أو نحوُ ذا، أو قريبٌ من ذا، أو ما شاء الله (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 376 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 376 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے کہ میں ایک سال تک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھتا رہا مگر وہ (عام طور پر) «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) نہیں کہتے تھے، اور جب کبھی وہ یہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تو ان پر کپکپی طاری ہو جاتی، پھر وہ کہتے: بلکہ اس طرح، یا اس کے مانند، یا اس کے قریب، یا جیسا اللہ نے چاہا۔
یہ روایت کثرتِ روایت سے بچنے اور حدیث بیان کرنے میں پختگی و احتیاط اختیار کرنے کے اصولوں میں سے ہے، شیخین نے اسرائیل عن ابی حصین کی سند پر اتفاق کیا ہے اور امام مسلم نے شریک بن عبداللہ سے احتجاج کیا ہے جو کہ قابلِ احتجاج ہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ روایت کثرتِ روایت سے بچنے اور حدیث بیان کرنے میں پختگی و احتیاط اختیار کرنے کے اصولوں میں سے ہے، شیخین نے اسرائیل عن ابی حصین کی سند پر اتفاق کیا ہے اور امام مسلم نے شریک بن عبداللہ سے احتجاج کیا ہے جو کہ قابلِ احتجاج ہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن عبد الله الحكيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حدثنا شريك (1)، فذَكَرَه بنحوه (2).
هذا حديث من أصول التوقِّي عن كثْرة الرواية والحثِّ على الإتقان فيه، وقد اتَّفقا على إسرائيل عن أبي حَصِين، وقد احتَجَّ مسلمٌ بشَرِيك بن عبد الله، وهو أهلٌ أن يُحتَجَّ به، ولم يُخرجاه. وله شاهد آخر على شرطهما:
هذا حديث من أصول التوقِّي عن كثْرة الرواية والحثِّ على الإتقان فيه، وقد اتَّفقا على إسرائيل عن أبي حَصِين، وقد احتَجَّ مسلمٌ بشَرِيك بن عبد الله، وهو أهلٌ أن يُحتَجَّ به، ولم يُخرجاه. وله شاهد آخر على شرطهما:
حافظ طلحہ بابر
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث کثرتِ روایت میں احتیاط برتنے اور روایت کو پختگی کے ساتھ بیان کرنے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے؛ امام مسلم نے شریک بن عبداللہ سے احتجاج کیا ہے اور وہ اس معیار پر پورے اترتے ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی۔
حدثناه أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، حدثنا ابن عَوْن، أخبرني مسلم بن أبي عِمران، عن إبراهيم التَّيْمي، عن أبيه، عن عمرو بن ميمون قال: ما أخطأَني - وقال ابن عون: قَلَّ ما أخطَّأني - عَشِيَّةُ خميس إلّا أَتيتُ فيها ابنَ مسعود، فما سمعتُه لشيءٍ يقول: قال رسول الله ﷺ، حتى إذا كان ذاتَ عشيَّةٍ قال: قال رسول الله ﷺ، فنظرتُ إليه فإذا هو محلولٌ أزرارُ قميصِه، منتفِخٌ أوداجُه، مُغرَورِقةٌ عيناه، ثم قال: هكذا وفوق ذا، أو قريب من ذا، أو كما قال رسول الله ﷺ (3).
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں ہر جمعرات کی شام ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوتا تھا، میں نے انہیں کبھی «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا، یہاں تک کہ ایک شام انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا“، تو میں نے ان کی طرف دیکھا تو (شدتِ جذبات سے) ان کے قمیص کے بٹن کھل چکے تھے، ان کی رگیں پھول گئی تھیں اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں، پھر انہوں نے کہا: اسی طرح یا اس سے کچھ زیادہ، یا اس کے قریب، یا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اس کا ایک اور شاہد شیخین کی شرط پر موجود ہے۔
اس کا ایک اور شاہد شیخین کی شرط پر موجود ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، عن محمد بن إسحاق. وحدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا علي بن عبد العزيز، أنَّ سعيد بن منصور حدثهم، حدثنا أبو شِهَاب. وحدثنا أبو القاسم يوسف بن يعقوب السُّوسِي، حدثنا أبو علي محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا أبو شهاب. وحدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد العُودِي، حدثنا أبو الرَّبيع، حدثنا أبو شهاب، عن محمد بن إسحاق، عن مَعبَد بن كعب بن مالك قال: سمعتُ أبا قَتَادة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول وهو على المِنبَر: "إيَّاكم وكَثْرة الحديث عنِّي، فمن قالَ عنّي، فلا يقولَنَّ إلّا حقًّا، ومن قال عليَّ ما لم أقُلْ، فليتبَوَّأ مَقعَدَه من النار" (1). وفي حديث محمد بن عُبيد: حدثني ابن كعب وغيرُه عن أبي قتادة.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه ألفاظٌ صَعْبة شديدة، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد آخرَ عن أبي قتادة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 379 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه ألفاظٌ صَعْبة شديدة، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد آخرَ عن أبي قتادة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 379 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مجھ سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرنے سے بچو، پس جو کوئی میری طرف سے کوئی بات بیان کرے تو وہ صرف حق (سچ) ہی کہے، اور جس نے میری طرف منسوب کر کے ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کثرتِ روایت کے حوالے سے سخت اور شدید الفاظ ہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کثرتِ روایت کے حوالے سے سخت اور شدید الفاظ ہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَنيهِ علي بن حَمْشاذَ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن موسى بن خَتٍّ ببَلْخ، حدثنا عَتّاب بن محمد بن شوذَب، حدثنا كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه قال: قلت لأبي قَتَادة: حدِّثني بشيءٍ سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: أخشى أن يَزِلَّ لساني بشيءٍ لم يَقُلْه رسول الله ﷺ، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إيَّاكم وكثْرةَ الحديث عنّي، مَن كَذَبَ عليَّ متعمِّدًا، فليتَبوَّأْ مقعدَه من النار" (2).
حافظ طلحہ بابر
کعب بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کوئی ایسی بات سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں میری زبان سے ایسی بات نہ نکل جائے جو رسول اللہ ﷺ نے نہ فرمائی ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”مجھ سے کثرتِ روایت سے بچو، جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ مٹا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“