حدیث نمبر: 385
حدَّثَنيهِ علي بن حَمْشاذَ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن موسى بن خَتٍّ ببَلْخ، حدثنا عَتّاب بن محمد بن شوذَب، حدثنا كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه قال: قلت لأبي قَتَادة: حدِّثني بشيءٍ سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: أخشى أن يَزِلَّ لساني بشيءٍ لم يَقُلْه رسول الله ﷺ، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إيَّاكم وكثْرةَ الحديث عنّي، مَن كَذَبَ عليَّ متعمِّدًا، فليتَبوَّأْ مقعدَه من النار" (2).
حافظ طلحہ بابر

کعب بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کوئی ایسی بات سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں میری زبان سے ایسی بات نہ نکل جائے جو رسول اللہ ﷺ نے نہ فرمائی ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”مجھ سے کثرتِ روایت سے بچو، جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ مٹا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 385
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن بما قبله
تخریج حدیث «حديث حسن بما قبله، عتاب بن محمد بن شوذب وكعب بن عبد الرحمن ليسا بالمشهورَين ، لا يكادان يُعرفان، والمحفوظ في هذا الحديث أنه من رواية معبد بن كعب عن أبي قتادة كما في الحديث السابق-» [ترقيم الرساله 385] [ترقيم الشركة 379]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن بما قبله، عتاب بن محمد بن شوذب وكعب بن عبد الرحمن ليسا بالمشهورَين

لا يكادان يُعرفان، والمحفوظ في هذا الحديث أنه من رواية معبد بن كعب عن أبي قتادة كما في الحديث السابق.

درجۂ حدیث: سابقہ روایت کے شاہد کی بنا پر یہ "حدیث حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عتاب بن محمد اور کعب بن عبد الرحمن مشہور راوی نہیں ہیں بلکہ غیر معروف ہیں؛ علمی طور پر اس حدیث میں "محفوظ" (درست) بات یہ ہے کہ یہ معبد بن کعب عن ابی قتادہ کی روایت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
وأخرجه الطبراني في "طرق حديث من كذب علي متعمدًا" (96) عن موسى بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه الطبراني أيضًا (96)، وابن عدي في "الكامل" 1/ 3 - وعنه ابن الجوزي في مقدمة "الموضوعات" 1/ 71 - من طريق داود بن حماد البلخي، عن عتاب بن محمد بن شوذب، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے اپنی کتاب "طرق حدیث من کذب علی متعمداً" (96) میں، نیز ابن عدی نے "الکامل" (1/ 3) میں اور ان کے واسطے سے ابن الجوزی نے "الموضوعات" کے مقدمے (1/ 71) میں داود بن حماد البلخی عن عتاب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 385 سے ماخوذ ہے۔