کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک امام کو محارب کے بارے میں اختیار ہے کہ اس کے بارے میں جو چاہے کرے
٣٤٩٩٦ - حدثنا هشيم بن بشير عن حجاج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ ، حضرت عطاء رحمہ اللہ ، حسن رحمہ اللہ اور حضرت ضحاک رحمہ اللہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔
٣٥٠٠١ - حدثنا حفص عن عاصم عن الحسن قال: تلى هذه الآية: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ قال: ذلك إلى الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑائی کرتے ہیں ۔ اور فرمایا : یہ اختیار امام کو ہے۔
٣٥٠٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن عمرو عن عمر بن عبد العزيز قال: السلطان ولي (قتلى) (١) من حارب الدين وأن قتل أخا امرئ وأباه، فليس إلى من يحارب الدين ويسعى في الأرض فسادا سبيل -يعني دون السلطان، ولا يقصر عن الحدود بعد أن تبلغ إلى الإمام، فإن إقامتها من السنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ سلطان اس شخص کے قتل کا نگران ہے جو دین میں بگاڑ کا سبب بنے۔ سلطان کے علاوہ کسی کو اس کا اختیار نہیں۔ جب حدود امام کے پاس پہنچ جائیں تو ان کی معافی کی کوئی صورت نہیں اور ان کا قائم کرنا سنت ہے۔
٣٥٠٠٣ - حدثنا زيد بن الحباب عن أبي هلال (عن قتادة) (١) عن سعيد بن المسيب في المحارب إذا رفع إلى الإمام يصنع به ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے محارب کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ جب اس کو امام کے پاس لے گئے تو اس کو اختیار ہے کہ جو چاہے اس کے ساتھ معاملہ کرے۔