٢٧٤٤٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (ابن) (١) أبي حسين سمعه (من) (٢) شهر يقول: أخبرته أسماء بنت يزيد (قالت) (٣): مر علينا النبي ﷺ في نسوة فسلم علينا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم عورتوں پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کیا۔
٢٧٤٤٤ - حدثنا وكيع عن شعبة عن جابر عن طارق (التميمي) (١) عن جرير أن النبي ﷺ مر على نسوة فسلم عليهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کیا۔
٢٧٤٤٥ - حدثنا وكيع عن (شعبة عن) (١) الأعمش عن مجاهد أن ابن عمر [مر على امرأة (في ظلة) (٢) فسلم عليها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک عورت پر گزرے جو سایہ میں بیٹھی ہوئی تھی آپ نے اس کو سلام کیا۔
٢٧٤٤٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن بشر بن حرب قال: رأيت ابن عمر] (١) مر على امرأة فسلم عليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ ایک عورت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کو سلام کیا۔
٢٧٤٤٧ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) ذر عن مجاهد أن عمر مر على نسوة فسلم عليهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عورتوں پر سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔
٢٧٤٤٨ - حدثنا ابن عيينة عن (زُرْزر) (١) قال: سألت عطاء عن السلام على النساء فقال: إن كن شواب فلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عورتوں کو سلام کرنے کے بارے میں پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : اگر وہ عورتیں جوان ہوں تو پھر نہ کرو۔
٢٧٤٤٩ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: قلت لمحمد أسلم على المرأة؟ قال: لا أعلم به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے پوچھا : کہ کیا عورت کو سلام کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
٢٧٤٥٠ - حدثنا حفص عن عمرو عن (الحسن) (١) أنه كان لا يرى أن يسلم (الرجل على) (٢) المرأة، إلا أن يدخل عليها في بيتها فيسلم عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری عورتوں کو سلام کرنے کی رائے نہیں رکھتے تھے ، مگر یہ کہ وہ اس عورت کے گھر میں داخل ہو تو اس کو سلام کرسکتا ہے۔
٢٧٤٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن (قرير) (١) قال: جاء رجل ⦗٢٦٦⦘ إلى الحسن فقال: أسلم على النساء؟ (قال) (٢): الحَقْ بأهلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز قریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حسن کے پاس آیا، اور پوچھا : کیا عورتوں کو سلام کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تو اپنے گھر والی کے ساتھ مل جا کر ۔
٢٧٤٥٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن (بن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) قال: كان عمرو بن ميمون يسلم على النساء والصبيان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون عورتوں اور بچوں کو سلام کیا کرتے تھے۔
٢٧٤٥٣ - حدثنا أبو أسامة عن عمرو بن عثمان قال: رأيت موسى بن طلحة مر على نسوة جلوس فسلم عليهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت موسیٰ بن طلحہ کو دیکھا کہ آپ بیٹھی ہوئی عورتوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔
٢٧٤٥٤ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن السلام على النساء فكرهه (حماد) (١) على الشابة والعجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد دونوں سے عورتوں کو سلام کرنے کے متعلق سوال کیا ؟ تو حضرت حماد نے بوڑھی اور جوان عورتوں پر سلام کرنے کو مکروہ سمجھا اور حضرت حکم نے فرمایا : حضرت شریح ہر ایک کو سلام کیا کرتے تھے، میں نے پوچھا : عورتوں کو بھی ؟ آپ نے فرمایا : ہر ایک کو سلام کرتے تھے۔