کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دھاگے اور تعویذات باندھنے (اور لٹکانے) کے بارے میں (روایات)
٢٥٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (ومعتمر) (١) عن (الركين) (٢) عن (القاسم) (٣) بن حسان عن عمه (٤) عبد الرحمن بن حرملة عن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يكره عقد التمائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈورے باندھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٥٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عيسى (عن) (١) عبد اللَّه (بن) (٢) (عكيم) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من تعلق علاقة ⦗١١٦⦘ وكل (إليها) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حکیم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس نے کوئی چیز : دھا کہ وغیرہ لٹکائی تو وہ اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے “۔
٢٥٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع عن) (١) الأعمش عن (إبراهيم عن) (٢) أبي عبيدة قال: دخل عبد اللَّه على امرأته وهي مريضة، فإذا في عنقها خيط معلق فقال: ما هذا؟، (فقالت) (٣): شيء رقي لي فيه من الحمى، فقطعه فقال: إن آل (إبراهيم) (٤) أغنياء عن الشرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ، اپنی بیوی کے پاس گئے اور وہ (اس وقت) بامجر تھیں۔ حضرت عبد اللہ کو ان کی گردن میں ایک دھاگہ لٹکا ہوا نظر آیا تو آپ نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ بیوی نے جواب دیا۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں بخار کا دم کان گیا ہے۔ پس حضرت عبد اللہ نے اس کو توڑ دیا اور فرمایا۔ بیشک آل ابراہیم شرک سے بری ہیں۔
٢٥٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: رأى ابن مسعود على بعض أهله شيئا قد (تعلقه) (٢) فنزعه منه نزعًا عنيفًا وقال: إن آل ابن مسعود أغنياء عن الشرك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے اپنے بعض اہل خانہ پر کوئی چیز لٹکی ہوئی دیکھی تو آپ نے اس کو غصہ سے کھینچ دیا اور فرمایا : بیشک ابن مسعود کے گھر والے شرک سے بےپرواہ ہیں۔
٢٥٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس عن الحسن عن عمران بن الحصين أنه رأى في يد رجل حلقة من صفر فقال: ما هذه قال: من الواهنة قال: (لم) (١) (تزدك) (٢) إلا وهنا، لو مت وأنت تراها نافعتك لمت على غير الفطرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا کڑا دیکھا۔ تو آپ نے (اس سے) پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ یہ واہنہ (بازو کی بیماری) کی وجہ سے پہنا ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ تو تم میں ضعف کو مزید بڑھائے گا۔ اور اگر تم اس حالت میں مرے کہ تم اس کو نافع خیال کرتے ہو تو یقینا تم خلاف فطرت موت مرو گے۔
٢٥٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) قال: (أخبرنا) (٢) منصور عن الحسن عن عمران بن (الحصين) (٣) مثل ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے حضرت عمران بن حصین سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔
٢٥٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن يزيد قال: أخبرني زيد ابن وهب قال: انطلق حذيفة إلى رجل من النخع يعوده، فانطلق وانطلقت معه، فدخل عليه ودخلت معه، فلمس عضده فرأى فيه خيطا فأخذه فقطعه، ثم قال: لو مت وهذا في عضدك ما صليت عليك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید سے روایت ہے کہتے ہیں : کہ مجھے زید بن وہب نے بتایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک آدمی کی بلغم کی مرض میں عیادت کرنے کے لئے گئے۔ وہ چلے تو میں بھی ان کے ہمراہ چل پڑا ۔ پس وہ اس کے پاس پہنچے تو میں بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی کلائی کو چھوا تو اس میں انہوں نے ایک دھاگہ دیکھا۔ آپ نے اس دھاگہ کو پکڑا اور توڑ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اگر تم اس حالت میں مرجاتے کہ یہ دھاگہ تمہاری کلائی میں ہوتا تو میں تمہارا جنازہ نہ پڑھتا۔
٢٥٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان ⦗١١٨⦘ عن حذيفة، قال: دخل (عليٌ) (٢) على رجل يعوده، فوجد في عضده خيطا (قال) (٣): فقال: ما هذا؟ قال: خيط رقي لي فيه، فقطعه ثم قال: لو مت ما صليت عليك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ تو آپ نے اس کی کلائی میں دھاگہ دیکھا۔ آپ نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا۔ یہ ایک دھاگہ ہے جس میں مجھے دم کر کے دیا گیا ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو توڑ دیا۔ پھر فرمایا : اگر تم مرجاتے تو میں تمہارا جنازہ نہ پڑھتا۔
٢٥٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن إبراهيم بن المهاجر عن إبراهيم عن عبد اللَّه أنه كره تعليق شيء من (القرآن) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ قرآن مجد میں سے بھی کچھ (آیت وغیرہ) لٹکانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٥٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث (بن سعد) (١) عن يزيد (عن) (٢) أبي (الخير) (٣) عن عقبة بن عامر قال: موضع التميمة من الإنسان و (الطفل) (٤) شرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ انسان اور بچے کے تعویذ کی جگہ شرک (کا ذریعہ) ہے۔
٢٥٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: من (تعلق) (١) علاقة وكل إليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جس کسی نے کوئی شئی ۔ دھاگہ وغیرہ۔ لٹکایا تو اس کو اسی شئی کے سپر د کردیا جائے گا۔
٢٥٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) (قال: أخبرنا) (٢) مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون التمائم كلها من القرآن وغير القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ (پہلے) اہل علم ہر قسم کے تعویذات کو ناپسند سمجھتے تھے چاہے وہ قرآن سے ہوں یا غیر قرآن سے۔
٢٥٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) يونس عن الحسن أنه كان يكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ان (تعویذات) کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٥٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة قال: قلت لإبراهيم: أعلق في عضدي هذه الآية: ﴿قُلْنَا يَانَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [الأنبياء: ٦٩]، من حمى (كانت) (١) بي، فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا۔ مجھے جو بخار ہوتا ہے میں اس سے (بچاؤ کے لئے) یہ آیت : { یَا نَارُ کُونِی بَرْدًا وَسَلاَمًا عَلَی إِبْرَاہِیمَ } اپنی کلائی پر (لکھ کر) لٹکا لوں ؟ تو ابراہیم نے اس کو ناپسند کا ۔
٢٥٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن هلال عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن النبي ﵇ (١) قال: "من علق التمائم وعقد الرقى فهو على شعبة من الشرك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تعویذات لٹکائے اور ڈورے باندھے تو یہ شخص شرک کے ایک شعبہ پر عمل پیرا ہے۔
٢٥٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون التمائم والرقى و (النُشَر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ (پہلے) اہل علم تعویذات ، ڈوروں اور آب زدہ کے تعویذ کو پسند نہیں کرتے تھے۔
٢٥٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن سوقة أن سعيد بن جبير رأى إنسانًا يطوف بالبيت في (عنقه) (١) خرزة فقطعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سوقہ سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک آدمی کو بیت اللہ کے گرد طواف کرتے دیکھا کہ اس کی گردن میں ڈورا تھا تو آپ نے اس ڈورے کو توڑ ڈالا۔
٢٥٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن سعيد بن جبير قال: من قطع تميمة عن إنسان كان كعدل رقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ جس آدمی نے کسی انسان سے ڈورے کو توڑا تو یہ (ثواب میں) ایک غلام کی آزادی کے برابر ہے۔
٢٥٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن (واقع) (١) بن (سحبان) (٢) قال: قال عبد اللَّه: من تعلق شيئا وكل إليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واقع بن سحبان سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں۔ جو آدمی کوئی چیز لٹکاتا ہے تو وہ اس کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
٢٥٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (أبي) (١) شهاب عن سعيد بن جبير قال: (كانت) (٢) (به) (٣) شقيقة (قال) (٤): فقال له رجل: (أرقيك) (٥) منها، (فقال) (٦): لا حاجة لي بالرقى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ انہیں درد سر تھا۔ بتاتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی نے کہا۔ میں آپ کو اس درد کا تعویذ دیتا ہوں ؟ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا۔ مجھے تعویذ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
٢٥٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن عون (عن) (١) إبراهيم أنه كان يكره المعاذة للصبيان و (يقول) (٢): إنهم يدخلون به الخلاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ بچوں کے لئے تعویذ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ بچے تعویذ کے ہمراہ ہی بیت الخلاء میں چلے جاتے ہیں۔