کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص نے شرعی احکام میں موجود آسانی کو قبول کیا اور اس کے مطابق عمل کیا
٢٤٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم أنه باع بنت جارية له، قال منصور: فقلت له: (أليس) (١) كانوا يكرهون التفريق، قال: بلى! ولكن أمها رضيت وقد وضعتها موضعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اپنی باندی کی بیٹی کو فروخت کردیا، حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ کیا ماں اور بیٹی کے درمیان جدائیگی کو ناپسند نہیں کیا گیا ؟ ابراہیم نے فرمایا : لیکن اس کی ماں راضی تھی ان سے، اس کی جگہ ایک اور بھی جن دی ہے۔
٢٤٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر وعطاء ومحمد بن علي قالوا: لا بأس أن يفرق بين المولدات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر، حضرت عطاء اور حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ماں اور اولاد کے درمیان فروخت کرتے وقت تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٤٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: لا بأس به إذا (أوصف) (١) أو أوصفت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بچے اگر حد بلوغ کو پہنچ گئے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ قیدیوں کے درمیان جدائی نہیں کریں گے، اور اگر بچے ماؤں سے بےنیاز ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ۔
٢٤٣١٢ - وقال وكيع: السبي لا يفرق بينهم، فأما المولدات إذا استغنين عن أمهاتهن فلا بأس (١).
٢٤٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر وأبي جعفر أنهما كرها التفريق بين السبايا، فأما (المولدون) (١) فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت ابو جعفر قیدیوں کے درمیان تفریق کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ نومولود بچوں کے ساتھ ایسا کرنے میں حرج نہ سمجھے تھے۔