٢٤٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن فراس عن عامر قال: قال عبد اللَّه: (لا غلت) (١) في الإسلام -يعني: لا غلط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں غلطی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یعنی فروخت کرنے کے بعد یہ کہنا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔
٢٤٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين أنه كان لا يجيز الغلط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بیع کو نافذ نہ فرماتے تھے۔
٢٤٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في ⦗٤٧٤⦘ رجل باع رجلًا ثوبًا فقال: (غلطت) (١)، (فقال) (٢) الشعبي: ليس بشيء، البيع خدعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ گھڑا فروخت کیا پھر کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، حضرت شعبی نے فرمایا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ بیع دھوکے کا نام ہے اور حضرت قاسم نے فرمایا : گھڑا اس کو واپس کرے گا۔
٢٤٣١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن عبد اللَّه مولى عمرو بن حريث عن أبيه قال: قدم رجل من أهل البادية بعشرة أبعرة فجعل يعطى بالبعير مائة وثلاثين، ومائة وعشرين، فيأبى، فأتاه رجل من النخاسين فقال: قد أخذتها منك بألف أقرع، فباعها، فلما حسب حسابها ندم، فخاصمه إلى شريح فأجاز البيع وقال: البيع خدعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص کچھ اونٹ لے کر آیا، اس کو ایک اونٹ کے ایک سو تیس، ایک سو بیس درہم دئیے گے تو اس نے فروخت کرنے سے انکار کردیا، اس کے پاس نخاسین میں سے ایک شخص آیا اور کہا کہ میں تجھ سے ہزار کے بدلے سارے اونٹ خریدتا ہوں۔ اس دیہاتی نے اس کو فروخت کردیا پھر بعد میں دیہاتی نے جب حساب لگایا تو بہت نادم ہوا اور اپنا جھگڑا حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے بیع کو نافذ فرمایا اور فرمایا بیع دھوکے کا نام ہے۔