٢٤١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن [الحكم (عن علي) (١) وعبد اللَّه قالا: قضى رسول اللَّه ﷺ بالشفعة للجوار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسی کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔
٢٤١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن] (١) الحكم. عمن سمع (عليًا) (٢) وعبد اللَّه يقولان: قضى رسول اللَّه ﷺ (بالشفعة) (٣) (بالجوار) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضور ﷺ نے پڑوسی کے حق میں فیصلہ فرمایا۔
٢٤١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم (بن) (١) ميسرة عن عمرو بن الشريد عن أبي رافع يبلغ به (إلى) (٢) النبي ﷺ قال: "الجار أحق (بصقبه) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔
٢٤١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي ﷺ (١) قال: "جار الدار أحق بالدار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھر کا پڑوسی (شفعہ کے ذریعہ) اس گھر کا زیادہ حق دار ہے۔
٢٤١٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (عن) (١) عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: قال: رسول اللَّه ﷺ: "الجار أحق بشفعة جاره إذا كان (طريقهما) (٢) (واحدًا) (٣) (ينتظر بها) (٤) وإن كان غائبا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر پڑوسیوں کا راستہ ایک ہو تو گھر کا پڑوسی شفعہ کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا۔
٢٤١٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن المغيرة الثقفي قال: سمعت (١) الشعبي يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "الشفيع (أولى) (٢) (من) (٣) الجار، والجار أولى من الجنب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شفعہ کرنے والا پڑوسی سے زیادہ حق دار ہے اور پڑوسی نزدیک والے سے زیادہ حق دار ہے۔ (یا پھر یہ مطلب ہے کہ شفعہ کرنے والا پڑوسی ہو تو وہ زیادہ حق دار ہے اور پڑوسی نزدیک بھی ہو تو زیادہ حق دار ہے) ۔
٢٤٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا (عمر) (١) بن راشد السلمي قال: سمعت الشعبي يقول: قضى رسول اللَّه ﷺ بالجوار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔
٢٤٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي بكر بن حفص (قال: كتب عمر) (١) إلى شريح أن يقضي بالجوار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت شریح کو خط لکھا کہ پڑوسیوں کے لئے شفعہ کا فیصلہ کریں، حضرت شریح کوفہ میں رہنے والے شخص کا شام کے رہائشی پر شفعہ کا فیصلہ فرماتے تھے۔
٢٤٢٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن عاصم عن الشعبي [عن شريح] (٢) قال: الخليط أحق من الشفيع، والشفيع (أحق من) (٣) الجار، والجار أحق ممن سواه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ شریک شفیع سے زیادہ حق دار ہے، اور شفیع پڑوسی سے زیادہ حق دار ہے اور پڑوسی باقیوں سے زیادہ حق دار ہے۔
٢٤٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال: الشريك أحق بالشفعة، فإن لم يكن (له) (١) شريك (فالجار) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ شریک شفعہ کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر کوئی شریک نہ ہو تو پھر پڑوسی زیادہ حق دار ہے۔
٢٤٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن الحسن (ابن) (١) عمرو عن فضيل بن عمرو عن إبراهيم قال: الخليط أحق من الجار، والجار أحق من غيره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ شریک پڑوسی سے زیادہ اور پڑوسی باقیوں سے زیادہ حق دار ہے۔
٢٤٢٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ⦗٤٤٦⦘ (أبي) (١) (حيان) (٢) عن أبيه أن عمرو بن حريث كان يقضي بالجوار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حریث پڑوسیوں کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرماتے تھے۔
٢٤٢٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (أسامة) (١) (عن حسين المعلم) (٢) عن عمر وابن شعيب عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال: قلت: يا رسول اللَّه! أرض ليس [فيها (لأحد) (٣)] (٤) قسم ولا شرك إلا الجوار، قال: " (الجوار) (٥) أحق بسقبه ما كان" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثرید فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک زمین میں کسی کے لئے کوئی حصہ اور شرکت نہیں ہے، صرف اس کا پڑوسی ہے، اس میں شفعہ کس کا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے۔
٢٤٢٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من كانت له شركة في أرض (أو) (١) ربعة فليس له أن يبيع حتى يستأذن شريكه، فإن شاء أخذ، وإن شاء ترك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کا زمین یا مکان میں شرکت ہو، اس کے لئے شریک کی اجازت کے بغیر اس کا بیچنا جائز نہیں ہے، اس کا شریک چاہے تو خود خریدے اور اگر چاہے تو نہ خریدے۔