٢٤٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن حماد عن إبراهيم قال: الشفعة للمشرك والأعرابي و (غيرهما) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مشرک اور اعرابی کے لئے حق شفعہ ہے، حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مشرک اور اعرابی کے لئے حق شفعہ نہیں ہے۔
٢٤٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ليث عن مهاجر عن الشعبي قال: ليس (لأعرابي) (١) و (لا) (٢) لمن لا يسكن المصر (شفعة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اعرابی اور اس شخص کے لئے جو شہر میں رہائش پذیر نہیں ہے اس کے لئے حق شفعہ نہیں ہے۔
٢٤٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حميد عن (الحسن) (١) قال: ليس لليهودي و (لا) (٢) (للنصراني) (٣) شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کو حق شفعہ نہیں ہے۔
٢٤٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جرير بن حازم عن (١) المقدام (أبي فروة) (٢) قال: حدثني جار لي أن شريحًا قضى لنصراني (بشفعة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقدام ابو فروہ سے مروی ہے کہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے ایک نصرانی کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔
٢٤٢١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا قيس بن الربيع عن خالد الحذاء قال كتب عمر بن عبد العزيز: لليهودي والنصراني شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا کہ یہودی اور نصرانی کو حق شفعہ حاصل ہے۔
٢٤٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حسن) (١) بن صالح (عن الشيباني) (٢) عن الشعبي قال: ليس (ليهودي) (٣) ولا نصراني شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کو حق شفعہ حاصل نہیں۔
٢٤٢١٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (قال) (١) (لنا) (٢) سفيان: لليهودي والنصراني شفعة] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کو حق شفعہ حاصل ہے۔
٢٤٢١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (أبي) (١) عدي عن أشعث عن الحسن قال: كان (لا) (٢) يرى للكفار شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ کفار کے لئے حق شفعہ میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔