٢١٥٦٩ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي وأبو داود الطيالسي (عن) (١) هشام الدستوائي عن قتادة عن جابر بن زيد أنه كان يكره أن يبيع الرجل أخاه من الرضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضاعی بھائی کے بیچنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
٢١٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه قال: في (أخيه) (١) وجدّتِه من الرضاعة (فكره) (٢) (بيعهما) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے رضاعی بہن اور رضاعی دادی بیچنے کو مکروہ قرار دیا۔
٢١٥٧١ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن عمران (القطان) (١) قال: سمعت الحسن وسئل عنه فكرهه،
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے رضاعی بھائی کو بیچنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت قتادہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت جابر بن زید کی رائے بھی یہی تھی اور ابراہیم نخعی فرماتے تھے کہ اگر چاہے تو بیچ سکتا ہے۔
٢١٥٧٤ - حدثنا معتمر عن هشام عن الحسن أنه كره أن (يبيع) (١) أخاه من الرضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی کو بیچنا مکروہ ہے۔
٢١٥٧٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إن جاريتي أرضعت (ابني) (١) (أفأبيعها) (٢) قال: فقال عبد اللَّه: لوددت أنه أخرجها إلى السوق فقال: من يشتري مني أم ولدي (فكأنه) (٣) كرهه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبدا للہ سے سوال کیا کہ میری باندی نے میرے بیٹے کو دودھ پلایا ہے، کیا میں ا س باندی کو بیچ سکتا ہوں ؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات کتنی عجیب ہوگی کہ تم اسے بازار لے جاؤ اور آواز لگاؤ کہ مجھ سے میرے بچے کی ماں کون خریدے گا ؟