کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک رضاعی بھائی (جو کہ غلام ہو) کو بیچنا درست ہے
٢١٥٦٤ - حدثنا معتمر بن سليمان عن معمر عن الزهري أنه لم ير بأسًا أن يبيع الرجل أخاه من الرضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٥٦٥ - حدثنا معتمر عن معمر عن أيوب عن محمد بن سيرين وقتادة قالا: لا بأس أن يبيع الرجل أخاه من الرضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٥٦٦ - حدثنا ابن علية عن يونس (عن أيوب) (١) عن ابن سيرين قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٥٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور أنه كان يقول: (يبيع) (١) الرجل أخاه من الرضاعة وأمه، لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٥٦٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن بيع الأخ من الرضاعة فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے رضاعی بھائی کی بیع کے بارے میں سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ ا س میں کوئی حرج نہیں۔