٢١٥٧٦ - حدثنا هشيم بن بشير عن سليمان التيمي قال: سألت الحسن عن ⦗٣٤٥⦘ قوله (تعالى) (١): ﴿وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ﴾ [البقرة: ٢٨٢]، (فقال) (٢): ألا ترى إلى قوله: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [البقرة: ٢٨٣]، إنه كان يرى أنه قد نسخ ما كان قبله.
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے قرآن مجید کی آیت { وَأَشْہِدُوا إذَا تَبَایَعْتُمْ } کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس آیت کو نہیں دیکھتے : { فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } گویا حسن گواہ بنانے کے لزوم والی آیت کو منسوخ خیال کرتے تھے۔
٢١٥٧٧ - حدثنا هشيم عن إسماعيل قال: (قلت) (١) للشعبي: أرأيت الرجل (يشتري) (٢) من الرجل (الشيء) (٣) حتم عليه أن يشهد، لا بد منه؟ قال: (لا) (٤)، (ألا) (٥) ترى إلى قوله: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا کہ جب کوئی آدمی کوئی چیز خریدے تو کیا اس پر گواہ بنانا لازمی اور ضروری ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں، کیا تم قرآن مجید کی اس آیت کو نہیں دیکھتے : { فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } اگر تم ایک دوسرے سے مامون ہو تو کوئی حرج نہیں۔
٢١٥٧٨ - حدثنا محمد بن (مروان) (١) عن عبد الملك بن أبي نضرة عن أبيه عن أبي سعيد الخدري في قوله: (و) (٢) أشهدوا (٣) إذا تبايعتم)، قال: نسختها ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { وَأَشْہِدُوا إذَا تَبَایَعْتُمْ } کو { فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } نے منسوخ کردیا ہے۔
٢١٥٧٩ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر (الرازي) (١) عن الربيع بن أنس قال: رأيت صفوان بن محرز وأتى السوق ومعه درهم (زيف) (٢) فقال: من يبيعني عنبًا طيبًا (بدرهم) (٣) خبيث، فاشترى ولم يشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن انس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت صفوان بن محمد کو دیکھا کہ ایک دن وہ بازار گئے۔ ان کے پاس ایک درہم تھا، انہوں نے فرمایا کہ اس ایک کھوٹے درہم کے بدلے مجھے عمدہ انگور کون بیچے گا۔ انہوں نے انگور خریدے اور کسی کو گواہ نہیں بنایا۔
٢١٥٨٠ - حدثنا ابن أبي زائدة عن العلاء بن المسيب قال: سمعت الحكم قرأ: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ قال: نسخت هذه الشهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت { فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } نے گواہ بنانے کو منسوخ کردیا ہے۔
٢١٥٨١ - حدثنا ابن أبي زائدة عن مجالد عن الشعبي قال: البيوع ثلاثة: بيع (بشهود) (١) و (كتاب) (٢)، وبيعٌ (٣) برهانٍ مقبوضة، وبيع بالأمانة، (و) (٤) قرأ آية الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بیعات تین قسم کی ہیں ایک وہ بیع جو گواہوں اور تحریر کے ساتھ ہو، ایک وہ بیع جو رہن مقبوضہ کے ساتھ ہو اور ایک وہ بیع جو امانت کے ساتھ ہو پھر انہوں نے آیت دین کی تلاوت کی۔
٢١٥٨٢ - حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) القطان عن (شعبة) (٢) عن فراس عن الشعبي عن أبي بردة عن أبي موسى قال: ثلاثة لا (تستجاب) (٣) لهم دعوة: رجل آتى سفيها وقال اللَّه: ﴿(وَ) (٤) لَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ [النساء: ٥]، ورجل ⦗٣٤٧⦘ كانت عنده امرأة سيئة (الخلق) (٥) فلم يفارقها ولم يطلقها، ورجل اشترى ولم يشهد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں کی جائے گی، ایک وہ جو کسی بیوقوف کو اپنا مال دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بیوقوفوں کو اپنا مال نہ دو ، دوسرا وہ آدمی جس کے پاس کوئی بداخلاق بیوی ہو وہ نہ اسے طلاق دے اور نہ اس سے جدا ہو اور تیسرا وہ آدمی جو کوئی چیز خریدے تو گواہ نہ بنائے۔
٢١٥٨٣ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن (ابن) (١) أبي نجيح عن مجاهد قال: ثلاثة لا (يستجاب) (٢) لهم دعوة: رجل يدعو على امرأته وعلى مملوكه، ورجل يبيع ويشتري ولا يشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں، جن کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ جو اپنی بیوی کے لیے بددعا کرے دوسرا وہ جو اپنے غلام کے لے بددعا کرے اور تیسرا وہ آدمی جو خریدو فروخت کرتے ہوئے گواہ نہ بنائے۔
٢١٥٨٤ - حدثنا هشيم عن عوف عن ابن سيرين أنه كان يقول (١): (يشهد) (٢) إذا باع وإذا اشترى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خریدو فروخت کرتے ہوئے آدمی گواہ بنائے گا۔
٢١٥٨٥ - [حدثنا هشيم عن (جويبر) (١) عن الضحاك أنه كان يقول: يشهد إذا باع و (إذا) (٢) اشترى] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ خریدو فروخت کرتے ہوئے آدمی گواہ بنائے گا۔