کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک آقا اور اس کے غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا
٢١٢٣٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي (معبد) (١) عن ابن عباس أنه كان لا يرى بين العبد وبين سيده ربا، لو كان يبيع ثمرته من غلمانه قبل أن تطعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ آقا اور اس کے غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے وہ اپنے غلاموں کے پھل پکنے سے پہلے خرید لیتے تھے۔
٢١٢٣٦ - حدثنا حفص بن غياث (عن الشيباني) (١) عن الشعبي قال: ليس بين العبد وبين سيده ربا] (٢)، يعطيه درهما ويأخذ منه درهمين.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ غلام اور اس کے آقا کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ وہ غلام کو ایک درہم دے کر اس سے دو درہم بھی لے سکتا ہے۔
٢١٢٣٧ - (١) (حدثنا) (٢) حفص عن (أبي) (٣) العوام عن عطاء عن ابن عباس قال: ليس بين العبد وبين سيده ربا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غلام اور اس کے آقا کے درمیان سود نہیں ہوتا۔
٢١٢٣٨ - حدثنا إسماعيل عن ليث عن (طاوس) (١)،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ غلام اور اس کے آقا کے درمیان سود نہیں ہوتا۔
٢١٢٤٠ - وعن هشام عن حماد (عن) (١) إبراهيم (قال) (٢): ليس بين العبد وبين (سيده ربا) (٣).
٢١٢٤١ - حدثنا هشيم عن مغيرة قال: سألت إبراهيم والشعبي عن رجل كان ⦗٢٦١⦘ له عبد يؤدي خمسة (دراهم) (١) كل (شهر) (٢) فقال: (أ) (٣) عطني مائتي درهم كل (شهر) (٤) وأعطيك كل (شهر) (٥) تسعة دراهم، قال: فلم (يريا) (٦) به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم اور حضرت شعبی سے سوال کیا کہ ایک آقا اپنے غلام کو ہر مہینے پانچ درہم دیتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ تو مجھے ہر مہینے دو سو درہم دے اور میں تجھے ہر مہینے نو درہم دوں گا۔ ان حضرات نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٢٤٢ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها أن يعطي الرجل مملوكه (الدرهم) (١) على أن يزيده في الغلة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی اپنے غلام کو اس بنا پر درہم دے کہ وہ غلے میں اضافہ کرے۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اس کو جانور یا سواری دے یا کوئی چیز دے میرا پھر جتنا چاہے اضافہ کرے۔
٢١٢٤٣ - وقال ابن سيرين: يعطيه (بدنة) (١) أو دابة أو غير ذلك من المنائح؛ ويزيد عليه ما شاء.
٢١٢٤٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد والحسن (قالا) (١): ليس بين العبد و (بين) (٢) سيده ربا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید اور حسن فرماتے ہیں کہ غلام اور اس کے آقا میں سود نہیں ہوتا۔
٢١٢٤٥ - حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء قال: ليس بين المملوك وبين سيده ربا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ غلام اور اس کے آقا میں سود نہیں ہوتا۔