٢١٢٢٨ - [حدثنا وكيع] (١) (بن) (٢) الجراح عن ابن جريج عن (عبيد اللَّه) (٣) بن أبي (يزيد) (٤) عن أبي عياض أن عليًّا كان يكره الرهن و (القبيل) (٥) في السلم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سلم میں گروی اور کفیل کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٢١٢٢٩ - حدثنا أبو الأحوص عن محمد بن قيس قال: سئل ابن عمر عن الرجل يسلم السلم ويأخذ الرهن فكرهه وقال: ذلك (الشف) (١) المضمون يعنى (الربح) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سلم میں گروی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ملایا ہوا نفع ہے۔
٢١٢٣٠ - [حدثنا ابن فضيل عن يزيد و (سالم) (١) (عن) (٢) مجاهد عن ابن عباس أنه كان يكره الرهن في السلم] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سلم میں گروی کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٢١٢٣١ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن ليث عن طاوس قال: كل بيع نسأ فإنه يكره القبيل والرهن فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس ادھار والی بیع میں رہن اور کفیل کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٢١٢٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن (بكير) (١) بن عتيق قال: قلت لسعيد بن جبير: آخذ الرهن في السلم؟ فقال: ذلك ربح مضمون، قال: قلت: آخذ الكفيل؟ قال: ذلك ربح مضمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر بن عتیق کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ کپاس سلم میں گروی رکھوا سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ملایا ہو انفع ہے۔ میں نے کہا کہ کیا میں کفیل بنا سکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ یہ ملایا ہوا نفع ہے۔
٢١٢٣٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الجعد عن شريح أنه كان يكره الرهن في السلف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سلم میں رہن کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٢١٢٣٤ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن داود عن سعيد بن المسيب أنه كان يكره الرهن والقبيل في السلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سلم میں رہن اور کفیل کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔