٢١١٤٠ - حدثنا (جرير) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يرمي طير حارة وإذا رماه فعليه ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ پڑوسی کے پرندے کو تیر مارنا مکروہ ہے، ایسی صورت میں مارنے والے پر پرندے کی قیمت لازم ہوگی۔
٢١١٤١ - حدثنا وكيع عن فضيل بن غزوان قال: سمعت رجلًا يسأل (نافعًا) (١) عن صيد حمام المدينة فكرهها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے شہری کبوتر کو شکار کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے اسے مکروہ قرار دیا۔
٢١١٤٢ - حدثنا أبو أسامة أو (حدثت) (١) عنه عن عثمان بن غياث عن الحسن أنه كره صيد حمام (٢) الأمصار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے شہری کبوتروں کا شکار کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٢١١٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره أن يحال الرجل -يعني: يأذن- هذا لهذا في حمامه (وهذا) (١) لهذا في حمامه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اور دوسرا آدمی پہلے آدمی کو اپنے کبوتر کا شکار کرنے کی اجازت دے دے۔
٢١١٤٤ - حدثنا وكيع عن فضيل عن نافع أنه كره صيد حمام الأمصار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع نے شہری کبوتروں کے شکار کو مکروہ قرار دیا۔
٢١١٤٥ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح قال: سألت ابن أبي ليلى عن رجل أصاب صيدا بالمدينة فقال: نحكم عليه. كمل كتاب الصيد والحمد للَّه (حق حمده) (٢) (وصلواته على نبيه وعبده وعلى آله وسلم) (٣) (ويتلوه كتاب البيوع والأقضية في الشريكين) (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی لیلیٰ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص شہر میں کسی جانور کا شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے سزا دی جائے گی۔