کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کے اقوال کا تذکرہ جو فرماتے ہیں کہ اگر کسی چیز میں دو شریک ہوں تو نفع ان کی طے کردہ مقدار کے بقدر تقسیم ہو گا اور نقصان راس المال میں سے پورا کیا جائے گا
٢١١٤٦ - حدثنا أبو عبد الرحمن قال: نا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن أصحاب إبراهيم عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کسی چیز کے دو شریکوں کو نفع ان کی طے کردہ مقدار کے بقدر ملے گا اور نقصان راس المال میں سے پورا کیا جائے گا۔
٢١١٤٧ - وعن مغيرة عن إبراهيم والشعبي في الشريكين (قالا) (١): الشركة على (ما) اصطلحا عليه و (الوضيعة) (٢) على المال.
٢١١٤٨ - حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر قال: إذا اشترى الرجل المتاع و (أشرك) (١) فيه أحدا، فالربح على ما (اشتركا) (٢) عليه، و (الوضيعة) (٣) على المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی پھر اس میں کسی دوسرے کو شریک بنایا تو نفع طے کردہ مقدار کے برابر ہوگا اور نقصان مال میں سے پورا کیا جائے گا۔
٢١١٤٩ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) عاصم الأحول عن جابر بن قلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر دو شریک ایسے ہوں جن میں سے ایک نے سو اور دوسرے نے دو سو لگائے ہوں تو نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
٢١١٥٠ - وعن سفيان عن (هشام) (١) أبي كليب عن إبراهيم في الشريكين يخرج هذا مائة وهذا مائتين (قالا) (٢) الربح على ما (اصطلحا) (٣) عليه و (الوضيعة) (٤) على المال.
٢١١٥١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين (قالا) (١) الربح على ما (اشترطا) (٢) عليه و (الوضيعة) (٣) على المال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
٢١١٥٢ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم قال: الربح على ما اشترطا عليه والوضيعة على رأس المال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ مقدار کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
٢١١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٢١١٥٤ - حدثنا هشيم عن يونس (عن) (١) الحسن قال: الربح على ما (اشترطا) (٢) عليه، والوضيعة على (رب) (٣) المال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ مقدار کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے نکالا جائے گا۔
٢١١٥٥ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا وقتادة عن رجلين اشترفي فجاء أحدهما بالفين (وجاء) (١) الآخر بألف فاشتركا واشترطا أن الوضيعة بينهما والربح نصفين، (فقالوا) (٢): الربح على ما (اشترطا) (٣) عليه، و (الوضيعة) (٤) على المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم، حضرت حماد اور حضرت قتادہ سے سوال کیا کہ اگر دو آدمیوں نے باہم شراکت پر کام کیا، ایک دو ہزار اور دوسرا ایک ہزار لایا۔ انہوں نے یہ شرط لگائی کہ نقصان دونوں کے درمیان ہوگا اور نفع بھی دونوں کو آدھا آدھا ملے گا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے پورا کیا جائے گا۔
٢١١٥٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن الحكم عن شريح أنه قال: إذا (ولاه) (١) الرجل بصفقة بنسيئة، ثم أدخل فيها رجلا آخر، فالضمان على صاحب الصفقة وليس على شريكه شيء ما لم يكن نقد، فإن كان نقد، (فالوضيعة) (٢) على صاحب النقد، والربح على ما (اصطلحا) (٣) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے ادھار پر کوئی معاملہ کیا، پھر اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک کرلیا تو ضمان معاملہ کرنے والے پر ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے کوئی نقدی نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا اور اگر نقدی ہو تو نقصان نقدی والے کو ہوگا اور نفع طے شدہ حصہ کے بقدر تقسیم ہوگا۔
٢١١٥٧ - حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن أبي حصين عن علي في (المضارب) (١) (أو) (٢) الشريكين قال: سفيان لا أدري أيهما قال الربح على ما اصطلحا عليه و (الوضيعة) (٣) على المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ مضاربت اور شراکت کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نفع طے شدہ حصے کے بقدر اور نقصان اصل مال میں سے ہوگا۔
٢١١٥٨ - حدثنا غندر عن عبد الرحمن بن (خضير) (١) قال: سئل (طاوس) وأنا أسمع عن شريكين اشتركا، أحدهما أكثر رأس مال [(وأسنى) (٢) في (الوضيعة) (٣) فقال طاوس: لا (يغرم) (٤)، (وله) (٥) رأس ماله] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے سوال کیا گیا کہ دو آدمیوں نے اس طرح شراکت داری کی کہ ایک کا مال دوسرے سے زیادہ تھا اور اس کو نقصان میں بھی زیادہ کیا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اس پر تاوان نہیں ہوگا اس پر صرف راس المال ہی لازم ہوگا۔