کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا
٢٠٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حبيب عن عطاء عن ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رحمہ اللہ اور حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اسے نفقہ نہیں ملے گا بلکہ اس پر اسی کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔
٢٠٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن (سعيد) (١) ابن المسيب وجابر بن عبد اللَّه والحسن قال: كانوا يقولون: ليس لها نفقة، حسبها الميراث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ ، حضرت جابر بن عبداللہ رحمہ اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسے نفقہ نہیں ملے گا اور اس کے لئے میراث کافی ہے۔
٢٠٠٨٢ - [حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن حجاج عن عطاء قال: من نصيبها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔ (١٩٣١٤ م) حضرت عطاء سے ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٢٠٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن جعفر عن الزهري قال: قال قبيصة ابن ذؤيب: لو أنفقت عليها من غير نصيبها: أنفقات عليها من نصيب الذي في بطنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر میں عورت پر اس کے حصے کے علاوہ خرچ کروں تو میں اس کے حصے میں سے خرچ کروں گا جو اس کے پیٹ میں ہے۔
٢٠٠٨٥ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا هشيم (و) (٢) ابن علية عن يونس عن الحسن قال: (ينفق عليها) (٣) من نصيبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔
٢٠٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن شعبة عن عمرو بن دينار أن ابن عباس قال: (١) المتوفى عنها وهي حامل لا نفقة لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اسے نفقہ نہیں ملے گا۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
٢٠٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: ينفق عليها من نصيبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔
٢٠٠٩٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن برد عن مكحول قال: نفقتها من نصيبها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو اس پر اس کے وراثتی حصے میں سے خرچ کیا جائے گا۔