کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں اور عدت کاعورتوں سے ہے
١٩٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن أيوب عن سليمان بن يسار (أن نفيعا) (١) (فتى أم سلمة) (٢) طلق امرأته وهي حرة تطليقتين (فحرصوا) (٣) على أن يردوها عليه، وأبى عثمان وزيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام نفیع نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، لوگ چاہتے تھے کہ یہ خاتون واپس ان کے نکاح میں چلی جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا، حضرت سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کیا کسی نے اس کے علاوہ کوئی بات کرنی ہے ؟ جب میں مدینہ آیا تو میں نے حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ کو خط لکھا، انہوں نے مجھے جواب میں ایک حدیث لکھ بھیجی جس سے میرا دل مطمئن ہوگیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند آزاد ہو تو طلاق آزاد والی ہوگی اور عدت باندی والی اور اگر کسی آزاد عورت کا خاوند غلام ہو تو طلاق غلام والی ہوگی اور عدت آزاد والی۔
١٩٢٥٤ - فلما (قدمت) (١) المدينة كتبت إلى أبي قلابة فكتب إلي أنه حدثني من أطمئن إلى حديثه أن زيد بن ثابت وقبيصة بن ذؤيب قالا: إذا كان زوجها حرا وهي أمة فطلاقه طلاق حر وعدتها عدة أمة، وإن كان زوجها عبدا وهي حرة فطلاقه طلاق (عبد) (٢)، وعدتها عدة (حرة) (٣) (معتدة) (٤) (٥).
١٩٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب قال: حدثني عبد اللَّه ⦗٢٢٣⦘ (عن) (١) سليمان بن يسار قال: الطلاق بالرجال، والعدة بالنساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے اور عدت کا عورتوں سے ہے۔
١٩٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن عكرمة مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٩٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام عن قتادة (عن عكرمة) (١) عن ابن (عباس) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
بہت سے حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے اور عدت کا عورتوں سے ہے۔
١٩٢٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة قال: حدثنا نفيع أنه كان مملوكا، وتحته حرة، فطلقها تطليقتين، فسأل عثمان وزيدا فقالا: طلاقها طلاق عبد وعدتها عدة حرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع ایک غلام تھے اور ان کے نکاح میں ایک آزاد خاتون تھیں، انہوں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، اس بارے میں انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہاری طلاق غلام والی اور ان کی عدت آزاد عورتوں والی ہے۔
١٩٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: إذا كانت الحرة تحت العبد فقد بانت بتطليقتين، وعدتها ثلاث حيض ⦗٢٢٤⦘ وإذا كانت الأمة تحت الحر فقد بانت منه بثلاث (٢) وعدتها (حيضتان) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آزاد عورت کسی غلام کے نکاح میں ہو تو دو طلاقوں سے بائنہ ہوجائے گی اور تین حیض عدت گزارے گی اور اگر کوئی باندی کسی آزاد کے نکاح میں ہو تو تین طلاقوں سے بائنہ ہوگی اور دو حیض عدت گزارے گی۔
١٩٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن يحيى بن سعيد عن ابن المسيب قال: الطلاق للرجال والعدة للنساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے اور عدت کا عورتوں سے ہے۔