کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تو میرے لئے مصیبت ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٩١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن نعيم بن (دجاجة) (١) في رجل طلق امرأته تطليقتين ثم (قال) (٢): أنت علي حرج فقال عمر: ما هي (بأهونهن) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن دجاجہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں پھر کہا کہ تو میرے لئے مصیبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ مصیبت سے کم تو نہیں۔
١٩١٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (١) وأبي حسان (أن) (٢) عليًا كان يقول: ثلاث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے مصیبت ہے تو یہ تین طلاقوں کے قائم مقام ہے اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
١٩١٧٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية (عن معمر) (١) عن الزهري في طلاق الحرج: (ثلاث) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے مصیبت ہے تو یہ تین طلاقوں کے برابر ہے۔
١٩١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الصمد بن (عبد) (١) الوارث عن وهيب عن ابن طاوس عن أبيه في طلاق الحرج: ما نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے مصیبت ہے تو اس میں نیت کا اعتبار ہے۔
١٩١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن هشام عن قتادة أن عليًا قال في طلاق الحرج: ثلاثًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے مصیبت ہے تو یہ تین طلاقوں کے برابر ہے۔ حسن رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی۔