١٧٨٣٣ - حدثنا حفص عن الشيباني عن عكرمة قال: المستحاضة يأتيها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے وطی کرسکتا ہے۔
١٧٨٣٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن حميد عن بكر بن عبد اللَّه قال: بلغني أن الحجاج قال: (إذا شكت) (١) في الحيض (٢) اغتسلت وصلت ولا يقربها حتى تطهر فقال: بئس ما قال! الصلاة أعظم حرمة.
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حجاج نے بیان کیا کہ جب عورت کو حیض کا شک ہو تو وہ غسل کرکے نماز پڑھ لے اور اس کا خاوند اس کے قریب اس وقت تک نہ جائے جب تک پاک نہ ہوجائے۔ کسی نے کہا کہ اس نے بدترین بات کی ہے کیونکہ نماز زیادہ احترام والی چیز ہے۔
١٧٨٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي قال: يأتيها زوجها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٨٣٦ - حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث عن عطاء قال: يأتيها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٨٣٧ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: يغشاها زوجها إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اگر چاہے اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٨٣٨ - حدثنا غندر (عن) (١) شعبة عن حماد في المستحاضة: يأتيها زوجها (وتصوم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے اور وہ روزہ بھی رکھے گی۔
١٧٨٣٩ - حدثنا (وكيع عن سالم) (١) عن سعيد بن جبير قال: يأتيها، الصلاة أعظم حرمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔ اور نماز زیادہ حرمت والی چیز ہے۔
١٧٨٤٠ - حدثنا غندر عن سعيد عن قتادة عن ابن المسيب والحسن في المستحاضة: تصوم وتصلي وتقضي المناسك ويغشاها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مستحاضہ روزہ رکھے گی اور نماز پڑھے گی اور مناسک ادا کرے گی اور اس کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٨٤١ - حدثنا حفص عن أشعث، عن الحكم وحماد، عن إبراهيم قال: المستحاضة تصوم وتصلي ويأتيها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مستحاضہ روزہ رکھے گی اور نماز پڑھے گی اور اس کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٨٤٢ - حدثنا وكيع عن معمر بن موسى عن أبي جعفر قال: المستحاضة (١) يأتيها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔