١٧٨٢٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن غيلان بن جامع (عن) (١) عبد الملك (الزراد) (٢) عن الشعبي عن (قِمير) (٣) عن عائشة قالت: المستحاضة لا يأتيها زوجها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع نہ کرے۔
١٧٨٢٨ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم: أنه كره أن يجامعها زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم مستحاضہ بیوی سے وطی کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
١٧٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب] (١) الثقفي عن أيوب عن محمد أنه كان يكره أن يأتي الرجل امرأته وهي مستحاضة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد مستحاضہ بیوی سے وطی کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
١٧٨٣٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: لا يغشاها ولا (تصوم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کا خاوند اس سے وطی نہ کرے گا اور وہ روزہ بھی نہ رکھے گی۔
١٧٨٣١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة قال: قال الشعبي: لا تصوم، ولا يغشاها زوجها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مستحاضہ نہ روزہ رکھے اور نہ اس کا خاوند اس سے جماع کرے۔
١٧٨٣٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: قلت لسليمان بن (يسار) (١): يأتيها زوجها؛ قال: ما نقول فيه إلا ما سمعنا.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے سوال کیا کہ کیا مستحاضہ کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے اس بارے میں سنا ہے۔