کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر آدمی باکرہ یا ثیبہ عورت سے شادی کرے تو اس کے پاس کتنا قیام کرے گا؟
١٧٨١١ - حدثنا ابن (علية) (١) عن (خالد) (٢) عن أبي قلابة عن أنس قال: إذا تزوج الرجل البكر على امرأته أقام عندها سبعًا، وإذا تزوج الثيب أقام عندها ثلاثًا، قال خالد: قال أبو قلابة: أما لو قلت إنه (٣) عن النبي (٤) (ولكنها السنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی بیوی کی موجودگی میں کسی باکرہ سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے گا اور اگر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے گا۔ ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو یہ سمجھ لو کہ یہ حضور ﷺ کی طرف سے ہے یا یہ سنت ہے۔ حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن سیرین کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ باکرہ کے لئے تم نے چار دن اور ثیبہ کے لئے ایک دن زیادہ کردیا۔
١٧٨١٣ - حدثنا عبدة عن محمد بن إسحاق عن أيوب عن أبي قلابة (عن أنس) (١) أن النبي ﷺ قال: " (للبكر) (٢) سبعًا وللثيب ثلاثًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ باکرہ کے لئے سات دن اور ثیبہ کے لئے تین دن ہیں۔
١٧٨١٤ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد ابن إسحاق عن أيوب عن أبي قلابة ⦗٤١٩⦘ عن أنس عن النبي ﷺ بمثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٧٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن سفيان عن محمد بن أبي] (١) عن عبد الملك بن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبيه عن أم سلمة أن رسول اللَّه ﷺ (٢) لما تزوج أم سلمة أقام عندها ثلاثًا وقال لها: "إنه ليس بك على أهلك هوان، ان شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت (لنسائي) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا تو ان کے پاس تین دن قیام فرمایا۔ پھر ان سے فرمایا کہ آپ کے لئے آپ کے اہل کی طرف سے کوئی بوجھ نہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے پاس سات دن رہوں اور اگر میں آپ کے پاس سات دن رہوں تو اپنی دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
١٧٨١٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: لما تزوج رسول اللَّه ﷺ أم سلمة أقام عندها ثلاثًا وقال: "إن شئت سبعت لك وإن شئت قد سبعت لغيرك"، قيل للحكم: من حدثك هذا الحديث؟ فقال: هذا الحديث عند أهل الحجاز معروف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو ان کے پاس تین دن قیام فرمایا اور پھر ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے پاس سات دن ٹھہر جاؤں اور اگر سات دن ٹھہرا تو دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن ٹھہروں گا۔ حضرت حکم سے سوال کیا گیا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث اہل حجاز کے یہاں مشہور ہے۔
١٧٨١٧ - حدثنا عبدة عن أبي سعيد عن إبراهيم والشعبي قالا: إذا تزوج البكر على امرأته أقام عندها (سبعًا وإذا تزوج الثيب على امرأته، أقام عندها) (١) ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب آدمی بیوی کی موجودگی میں کسی باکرہ سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن قیام کرے۔ اور اگر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن قیام کرے۔
١٧٨١٨ - [حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٧٨١٩ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: (للبكر) (١) ثلاثًا، وللثيب (ليلتين) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آدمی باکرہ کے پاس تین دن اور ثیبہ کے پاس دو راتیں ٹھہرے گا۔
١٧٨٢٠ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن (قال) (١): يقيم عند البكر ثلاثًا (ويقسم) (٢)، وإذا تزوج الثيب أقام ليلتين ثم يقسم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ باکرہ کے پاس تین دن قیام کرے پھر تقسیم کرے اور ثیبہ سے شادی کے بعد اس کے پاس دو راتیں قیام کرے اور پھر تقسیم کرے۔
١٧٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) ابن (مهدي) (٢) عن حماد بن سلمة (عن) (٣) إبراهيم بلغه قال: البكر ثلاثًا (والثيب) (٤) ليلتين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ باکرہ کے لئے تین اور ثیبہ کے لئے دو راتیں ہیں۔
١٧٨٢٢ - حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن سلمة بن (وهرام) (١) عن عكرمة قال: (للبكر) (٢) سبعًا وللثيب ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ باکرہ کے لئے سات اور ثیبہ کے لئے تین راتیں ہیں۔
١٧٨٢٣ - حدثنا أبو قطن عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: هما سواء في القسم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ باکرہ اور ثیبہ تقسیم میں برابر ہیں۔
١٧٨٢٤ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد عن قتادة عن الحسن وسعيد ابن المسيب وخلاس قالوا: إذا تزوج البكر على امرأته أقام عندها ثلاثًا ثم يقسم وإذا تزوج الثيب أقام عندها ليلتين ثم يقسم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ جب بیوی کی موجودگی میں باکرہ سے شادی کی تو اس کے پاس تین دن قیام کرے، اور اگر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس دو راتیں قیام کرے۔ پھر تقسیم کرے۔
١٧٨٢٥ - حدثنا يزيد عن حميد عن أنس قال: من السنة للبكر سبعًا وللثيب ثلاثًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ باکرہ کے پاس سات دن اور ثیبہ کے پاس تین دن قیام کرے۔ حسن سات اور دو راتوں کی تقسیم کے قائل تھے۔