کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ} (ترجمہ)’’اور تم پرکوئی حرج نہیںکہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو‘‘ کی تفسیر
١٧٦٧٨ - حدثنا جرير (بن) (١) (عبد الحميد عن منصور) (٢) عن مجاهد عن ابن عباس قال: يقول: إني فيك (لراغب) (٣) وإني أريد امرأة أمرها كذا وكذا ويعرض لها بالقول (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نکاح کا پیغام دینے کے لئے آدمی عورت کو کہہ سکتا ہے کہ میں تجھ میں رغبت رکھتا ہوں اور میں ایک ایسی عورت چاہتا ہوں جس میں ایسی ایسی خوبیاں ہوں، وہ قول کے ذریعے اس سے اظہار کرسکتا ہے۔
١٧٦٧٩ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن مجاهد في قوله: ﴿(وَ) (١) لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [البقرة: ٢٣٥]، قال: يقول: إنك (لجميلة) (٢) وإنك (لنافعة) (٣)] (٤) (و) (٥) إنك إلي خير ويكره أن يقول: لا تفوتيني بنفسك وإني عليك (لحريص) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } : ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ کہ سکتا ہے کہ تو خوبصورت ہے، تو خرچ کرنے والی ہے، تو خیر کے راستے پر ہے۔ اور یہ کہنا مکروہ ہے کہ مجھے اپنے سے محروم نہ کرنا میں تیرے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔
١٧٦٨٠ - حدثنا حفص (١) عن ليث عن حماد عن إبراهيم أنه كان لا يرى بأسًا بذلك كله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم پیام نکاح کے لئے کسی بھی قسم کے الفاظ کے استعمال کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے۔
١٧٦٨١ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: كان يكره أن يقول إذا انقضت عدتها (تزوجتك) (١) ويقول ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد آدمی کہے کہ میں نے تجھ سے شادی کی۔ اس کے علاوہ جو مرضی کہے۔
١٧٦٨٢ - [حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: يقول: إني بك لمعجب وإني فيك لراغب فلا تفوتيني بنفسك] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ وہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے تو پسند ہے، مجھے تجھ میں رغبت ہے اور مجھے خود سے محروم نہ کر۔
١٧٦٨٣ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: يقول: إنك لجميلة وإنك (لنافقة) (١) وإنك لإليَّ خير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ کہ سکتا ہے کہ تو خوبصورت ہے، تو خرچ کرنے والی ہے، تو خیر کے راستے پر ہے۔
١٧٦٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه في المرأة يتوفى عنها زوجها فيريد الرجل (خطبتها) (١) وكلامها قال: يقول: (إني بك) (٢) لمعجب وإني فيك لراغب وإني عليك لحريص وأشباه ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کے خاوند کا انتقال ہوجائے اور کوئی آدمی اسے نکاح کا پیام بھیجنا چاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے تو پسند ہے، مجھے تجھ میں رغبت ہے، میں تجھے چاہتا ہوں۔ اور ان جیسے اور الفاظ بھی کہہ سکتا ہے۔
١٧٦٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن ابن سيرين عن عبيدة في قوله: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾، قال: (يذكرها) (١) إلى وليها ولا (يشعرنّها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ }: ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عورت کے ولی سے اس کا تذکرہ کرے گا عورت سے بات نہیں کرے گا۔
١٧٦٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة أن رسول اللَّه ﷺ قال لفاطمة بنت قيس: (انتقلي إلي أم شريك ولا تفوتينا بنفسك) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ آپ ام شریک کے یہاں منتقل ہوجائیں اور ہمیں اپنی ذات سے محروم نہ رکھیں۔
١٧٦٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان (١) عن سلمة عن مسلم عن سعيد بن جبير! ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ قال: (يقول) (٢): إني فيك لراغب وإني لأرجو أن يجمع اللَّه (بينك وبيني) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت {إلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ یہ کہے کہ مجھے تجھ میں رغبت ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے اور مجھے جمع فرمادیں گے۔
١٧٦٨٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يقول: إنك لجميلة وإنك (لنافقة) (١) وإن قضى اللَّه أمرًا كان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ خوبصورت ہیں، آپ خرچ کرنے والی ہیں۔ اگر اللہ کا فیصلہ ہوا تو بندھن ہوجائے گا۔
١٧٦٨٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حمار قال: لا بأس (بالهدية) (١) في (تعريض) (٢) النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ پیام نکاح بھیجتے ہوئے کوئی ہدیہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٧٦٩٠ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة أن النبي ﷺ قال لفاطمة: "لا تفوتينا بنفسك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ ہمیں اپنی ذات سے محروم نہ رکھنا۔
١٧٦٩١ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ قال: يعرض الرجل فيقول: إني أريد أن أتزوج، ولا ينصب لها في الخطبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } : ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آدمی نکاح کا پیغام دیتے ہوئے یوں کہے گا کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور پیام نکاح میں اسی عورت کو مقرر نہیں کرے گا۔
١٧٦٩٢ - حدثنا معاوية بن هشام (عن عمار) (١) (بن) (٢) (رزيق) (٣) عن عطاء ابن السائب عن (سعيد) (٤) بن جبير عن ابن عباس في قوله: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ قال: يقول: إني فيك لراغب، ولوددت أني تزوجتك حتى تعلمها أنه يريد تزويجها (من) (٥) غير أن يوجب عقدة أو يعاهدها على عهد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } : ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ کہے گا کہ مجھے تم میں رغبت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم سے شادی کروں۔ پس کوئی معاہدہ یا وعدہ کئے بغیر اسے بتادے کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
١٧٦٩٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن (سعيد) (١) عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: تلا هذه الآية: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ قال: يقول في العدة: إني عليك (لحريص) (٢) وإني فيك لراغب ونحو هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } : ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عدت میں عورت سے کہے گا کہ میں تجھے پسند کرتا ہوں اور تجھ میں رغبت رکھتاہوں اور اس جیسے الفاظ کہہ سکتا ہے۔
١٧٦٩٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ قال: يقول: إنك لجميلة وإنك (لنافقة) (١) وإن قضى اللَّه شيئًا كان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ }: ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ کہے گا تو خوبصورت ہے، خرچ کرنے والی ہے اور اگر اللہ کا فیصلہ ہوا تو یہ بندھن ہوجائے گا۔
١٧٦٩٥ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ (النِّسَاءِ) (١)﴾، قال: قول الرجل للمرأة: إنك لجميلة وإنك (لنافقة) (٢) وإنك لإلي خير، وليكن ذكر خطبتها في نفسه، لا يبديه لها، هذا كله حل معروف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ } : ” اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو نکاح کا پیغام دو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آدمی عورت سے کہے گا کہ تو خوبصورت ہے، تو خرچ کرنے والی ہے اور خیر کے راستے پر ہے۔ البتہ بہتر ہے کہ پیام نکاح کا تذکرہ اس کے دل میں ہو ۔ اسے عورت کے سامنے ظاہر نہ کرے اور یہ سب حلال اور نیکی ہے۔
١٧٦٩٦ - حدثنا شريك عن الحسن بن عبيد اللَّه عن أبي الضحى في قوله: ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ قال: يقول: إني (لاشتهيك) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ضحی قرآن مجید کی آیت {إلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ عورت سے کہے گا کہ میں تیری چاہت رکھتا ہوں۔