١٧٠٩٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن موسى بن أبي عائشة قال: سألت (مرة) (١) عن الرجل يشتري أو يسبي الجارية المجوسية ثم يقع عليها قبل أن تعلم الإسلام قال: لا يصبح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ میں نے مرہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص مجوسیہ باندی کو خریدے یا قیدی بنا کر لائے تو اس کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اس سے وطی کرسکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایسا کرنا درست نہیں۔ میں نے سعید بن جبیر سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس مجوسیہ سے بہتر نہیں ہے۔
١٧٠٩٧ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: إذا كانت وليدة مجوسية فإنه لا ينكحها حتى تسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مجوسیہ لڑکی کے مسلمان ہونے سے پہلے اس سے نکاح نہیں ہوسکتا۔
١٧٠٩٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري قال: (سمعته) (١) يقول: لا تقرب المجوسية حتى تقول: لا إله إلا اللَّه فإذا قالت ذلك فهو منها إسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب تک مجوسیہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرے مسلمان مرد اس کے قریب نہیں جاسکتا۔ جب وہ اقرار کرلے تو مسلمان ہے۔
١٧٠٩٩ - حدثحما وكيع عن شريك عن سماك عن أبي سلمة في المجوسية قال: (لا) (١) يقربها حتى تسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ مجوسیہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمان اس کے قریب نہیں جاسکتا۔
١٧١٠٠ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن في المجوسية تكون عند الرجل قال: لا يطأها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مجوسیہ سے وطی کرنا درست نہیں۔
١٧١٠١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (سبيت) (١) ⦗٢٥٣⦘ المجوسية وعبدة الأوثان عرض عليهن الإسلام فإن (أسلمن) (٢) وطئن واستخدمن وأن أبين أن يسلمن استخدمن ولم (يوطأن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب مجوسی اور بت پرست عورتیں قیدی بنائی جائیں تو انہیں اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر اصرار کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان سے وطی کرنا بھی درست اور خدمت لینا بھی درست۔ اگر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے وطی تو نہیں کی جائے گی البتہ خدمت لی جاسکتی ہے۔
١٧١٠٢ - حدثنا (الثقفي) (١) عن مثنى عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس أن يشتري الرجل (الجارية) (٢) المجوسية (فيتسراها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجوسیہ باندی خرید کر اس میں تصرف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
١٧١٠٣ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن مثنى قال: كان عطاء وطاوس وعمرو بن دينار لا يرون بأسًا أن (يتسرى) (٢) الرجل المجوسية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مثنیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء ، حضرت طاوس اور حضرت عمرو بن دینار کے نزدیک مجوسیہ باندی میں تصرف کرنا جائز ہے جبکہ حضرت سعید بن مسیب اسے مکروہ خیال فرماتے ہیں۔
١٧١٠٥ - حدثنا شاذان قال: (نا) (١) شريك عن أبي إسحاق عن بكر بن ماعز عن ربيع بن خثيم قال: إذا (أصبت) (٢) الأمة المشركة فلا تأتها حتى تسلم وتغتسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی مشرکہ باندی ملے تو اس سے تب تک جماع نہ کرو جب تک وہ اسلام قبول کرکے غسل نہ کرلے۔