١٥٣٧٢ - [(١) حدثنا (أبو) (٢) محمد عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا أبو عبد الرحمن (بقي) (٣) ابن مخلد قال: حدثنا أبو بكر (عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة العبسي) (٤) ⦗٤٢٢⦘ قال: حدثنا ابن فضيل عن هشام عن أبيه عن ضباعة قالت: دخل علي النبي ﷺ وأنا أشتكي فقال: "ما تريدين الحج العام؟ " قالت: إني لمعتلة يا رسول اللَّه قال: "حجي وقولي: محلي من الأرض حيث حبستني" (٥).
١٥٣٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء (عن) (١) ميسرة عن علي أنه كان يقول: اللهم حجة إن تيسرت أو عمرة إن أراد العمرة، وإلا فلا حرج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ یوں کہے، اے اللہ میں حج کرتا ہوں اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے اور اگر عمرہ کرنے کا ارادہ ہو تو یوں کہے اے اللہ ! میں عمرہ کرتا ہوں (اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے) اور اگر نہ کہے تو تب بھی اس پر کوئی حرج نہیں۔
١٥٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن أبي (بشر) (١) عن عكرمة عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ دخل على ضباعة ابنة الزبير وهي تريد الحج فقال لها: "اشترطي عند إحرامك (٢): ومحلي حيث حبستني فإن ذلك لك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس گئے وہ حج کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : احرام باندھتے وقت یوں شرط لگا لینا کہ میں اس جگہ سے احرام کھول دوں گی جہاں سے تو مجھے روک دے گا، پس یہ تیرے لیے کافی ہوجائے گا۔
١٥٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن هشام عن أبيه عن عائشة أنها قالت: إذا حججت فاشترط (قل) (١): اللهم الحج عمدت وإياه أردت فإن تيسر ⦗٤٢٣⦘ الحج فهو الحج وإن (٢) حبست فعمرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر تو حج کرنا چاہے تو یوں کہہ اے اللہ میں حج کرنا چاہتا ہوں اور یہی میرا مقصود ہے، پھر اگر حج اس کے لیے میسر آجائے (آسان ہوجائے) تو حج کرے اور اگر میں بیماری (یا کسی اور وجہ سے) روک دیا جاؤں تو عمرہ میرا مقصود ہے۔
١٥٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: رأيته وضع رجله في الغرز ثم قال: اللهم إني أريد حجة إن تيسرت، وإلا فعمرة إن تيسرت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنا پاؤں سواری کی رکاب (پاؤں رکھنے کی جگہ) میں رکھا اور یوں دعا کی کہ اے اللہ ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے، وگرنہ عمرہ کی نیت کرتا ہوں اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے۔
١٥٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان الأسود تعادله راحلته فإذا أتى (جبانة عرزم) (١) (٢) وإذا أراد أن يركب قال: اللهم حجة إن تيسرت، وإلا عمرة إن تيسرت ثم يلبي بالحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود ان کی سواری کو لے جایا جا رہا تھا (چونکہ وہ بیمار تھے اس لیے خود نہیں لے جاسکتے تھے) جب وہ مقام جبانہ عرزم (کوفہ) پر پہنچے اور سواری پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو یوں دعا مانگی، اے اللہ ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے وگرنہ عمرہ کا اگر تو اس کو میرے لیے آسان کر دے، پھر آپ نے حج کے لیے تلبیہ پڑھا۔
١٥٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: كان أبي لا يرى (٢) الاشتراط في الحج شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم حج میں شرط لگانے کے قائل نہ تھے۔
١٥٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام حج میں شرط نہیں لگاتے تھے (تلبیہ پڑھتے وقت) اور نہ ہی شرط لگانے کے قائل تھے، حضرت سلام کی حدیث میں اس بات کا اضافہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مرض وغیرہ میں مبتلا کردیا جائے۔
١٥٣٨٠ - وسلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا لا يشترطون ولا يرون الشرط فيه شيئًا، قال سلام في حديثه: لو أن رجلًا ابتلي.
١٥٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن هشام عن ابن سيرين قال: ⦗٤٢٤⦘ رأى عثمان رجلا واقفا بعرفة فقال له: (أشارطت) (١) قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عثمان نے ایک شخص کو دیکھا جو عرفہ میں موجود ہے، پس انھوں نے اس سے کہا کہ کیا تو نے تلبیہ پڑھتے وقت شرط لگائی تھی ؟ کہا : ہاں۔
١٥٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن سعيد بن عبد الرحمن عن ابن سيرين عن عبد اللَّه بن عتبة عن عثمان نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان سے اسی طرح منقول ہے۔
١٥٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ربيع بن (صبيح) (١) عن الحسن وعطاء في المحرم يشترط قالا: له شرطه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء اس محرم کے متعلق فرماتے ہیں جو تلبیہ پڑھتے وقت شرط لگائے، اس کے لیے اسی کی شرط پر عمل کرنا ہے۔
١٥٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة أن شريحًا كان يشترط في الحج فيقول: إنك قد عرفت بنيتي وما أريد، فإن (كان) (١) أمرًا (أتممه) (٢) فهو أحب إليّ، وإن كان غير ذلك فلا حرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ سے مروی ہے کہ حضرت شریح نے حج کے تلبیہ پڑھتے وقت شرط لگائی اور یوں دعا مانگی کہ اے اللہ ! بیشک تو میری نیت جانتا ہے اور اس کو بھی جس کا میں نے ارادہ کیا، پس اگر یہ کام میرے لیے مکمل کردیا جائے تو میرے لیے بہت پسندیدہ ہے، اور اگر اس کے علاوہ کوئی معاملہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابوبکر فرماتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ معاویہ نے اس حدیث سے رجوع کرلیا تھا۔
١٥٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن طاوس قال: الاشتراط في الحج ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طائؤس فرماتے ہیں کہ حج میں شرط لگانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
١٥٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هلال بن (خباب) (١) قال: قلت لسعيد بن جبير: أرأيت الاشتراط في الحج؟ قال: إنما الاشتراط في الحج فيما بين الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن خباب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے عرض کیا : آپ حج میں شرط لگانے کو کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا حج میں شرط لگانا لوگوں کے درمیان ہے، (صرف لوگوں کی حد تک ہے) ۔
١٥٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد في الاشتراط قال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد شرط لگانے کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
١٥٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن شعبة عن إبراهيم ابن مهاجر عن إبراهيم التيمي قال: كان علقمة يشترط في الحج ولا يراه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ حج میں شرط تو لگایا کرتے تھے لیکن اس کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔
١٥٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن داود بن أبي هند عن سعيد بن جبير قال: المستثني وغير المستثني سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حج میں استثناء کرنیوالا اور استثناء نہ کرنے والا دونوں ہی برابر ہیں۔
١٥٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هلال بن (خباب) (١) عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ دخل على ضباعة فقال لها: "ما تريدين الحج العام؟ "، قالت: يا رسول اللَّه إني (معتلة) (٢)، قال: "حجي واشترطي"، قالت: كيف أقول؟ قال: "قولي لبيك اللهم لبيك محلي من الأرض حيث حبستني" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے فرمایا کہ کیا تو اس سال حج کرنا چاہتی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو حج کر اور احرام باندھتے وقت شرط لگا لے، انھوں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہہ : اے اللہ ! میں حاضر ہوں میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں سے تو مجھے محبوس (روک) کر دے۔
١٥٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (عميرة) (١) بن زياد عن عبد اللَّه قال: إذا حججت (فاشترطه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم حج کرو تو شرط لگا لو۔
١٥٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن (محمد) (١) بن هلال عن أبيه عن أبي بكر بن (عبد اللَّه) (٢) الحارث أنه كان يشترط في العمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث عمرہ کرتے وقت شرط لگا لیا کرتے تھے۔