کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر بالوںکو گوندھے یا چوٹی بنائے یا مینڈھیاں بنائے تو اس پر ان کا حلق کروانا ہے
١٥١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء عن ابن عمر قال: من ضفر أو لبد أو عقص فليحلق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عامر فرماتے ہیں کہ جو بالوں کو گوندھے، یا چوٹی بنائے تو اس پر ان کا حلق کروانا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کی وہ نیت کرے وہ ہے۔
١٥١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن العباس بن عبد اللَّه عن أبيه قال: خرجت مع خالتي ميمونة، فلبدت رأسي بعسل أو بغرا فتنشر، فشق علي وأنا محرم فسألتها، فقالت: إغمس رأسك في ماء مرارًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی حضرت میمونہ کے ساتھ سفر حج پر نکلا، انھوں نے میرے سر کو شہد یا گوند سے گوندھ دیا، جس کی وجہ سے بال بکھر گئے، اور مجھے انھوں نے مشقت میں ڈال دیا حالانکہ میں حالت احرام میں تھا، میں نے آپ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے سر کو پانی میں بار بار غوطہ دو ۔
١٥١١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه عن علي قال: من لبد أو عقص أو ضفر (١) فقد وجب عليه الحلق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بالوں کو گوندھے، یا چوٹی بنائے تو اس پر ان کا حلق کروانا ہے۔
١٥١١٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الأزرق بن قيس عن ابن عمر عن عمر (قال) (١): من لبد أو ضفر أو فتل فليحلق] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص بالوں کو گوندھے یا چوٹی بنائے یا بٹ دیکر مضبوط کرے اس پر ان کا حلق کروانا ضروری ہے۔
١٥١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن وردان عن (عوف) (١) عن شيخ قال: سألت عنه فزعموا أنه أبو المهلب (قال) (٢): من لبد أو ضفر فقد وجب عليه الحلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المھلب سے دریافت کیا گیا، فرمایا جو بالوں کو گوندھے یا چوٹی بنائے اس پر بالوں کا حلق کروانا ضروری ہے۔
١٥١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: من لبد أو ضفر (فليحلق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو بالوں کو گوندھے یا چوٹی بنائے اس پر حلق کرنا ضروری ہے۔
١٥١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) اللَّه (٢) عن (ابن أبي) (٣) مليكة قال: وضعت على رأسي (طينًا) (٤) قبل أن أحرم فلقيت ابن الزبير فقال: أما عمر ⦗٣٥٣⦘ فكان يرى الحلق على من لبد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں نے احرام باندھنے سے قبل اپنے سر پر مٹی رکھ دی، میری حضرت ابن زبیر سے ملاقات ہوئی، آپ نے فرمایا کہ حضرت عمر بالوں کے گوندھنے والے پر حلق کو لازم کرتے ہیں جبکہ میرے نزدیک وہ ہے جس کی نیت کی جائے۔