١٤٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: (كان عمر يحج، فلا يذبح شيئًا حتى يرجع) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے حج فرمایا کہ آپ نے کوئی چیز ذبح نہ فرمائی یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ گئے۔
١٤٧٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبدة) (١) عن عثمان (بن حكيم) (٢) قال: قال نافع بن جبير: ما ضحيت بمكة قط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی مکہ مکرمہ میں قربانی نہیں کی۔
١٤٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان أصحابنا يحجون ومعهم الأوراق والذهب، فما يذبحون شيئًا، وكانوا (يتركونه) (١) مخافة أن يشغلهم عن شيء من المناسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب حج کرتے تو ان کے پاس سونا، چاندی ہوتا، لیکن وہ کچھ بھی ذبح نہ کرتے، وہ اس کو اس لیے ترک کرتے کہ کہیں وہ اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے مناسک ترک نہ کردیں۔
١٤٧٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم عن عائشة أنها كانت تحج، فلا تضحي عن بني أخيها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج فرمایا لیکن اپنے بھتیجے کی طرف سے قربانی نہ کی۔
١٤٧٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حماد) (١) (بن أبي الدرداء) (٢) عن مجاهد قال: ما يصلى هاهنا (٣)، وما يضحى يوم النحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ یہاں نماز ادا نہیں کرتے اور یوم النحر میں قربانی نہیں کرتے۔
١٤٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن وبرة: أن الأسود وعبد الرحمن بن يزيد (كانا) (١) يحجان ولا يضحيان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود اور حضرت عبد الرحمن بن یزید حج فرماتے لیکن قربانی نہ کرتے۔
١٤٧٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن بيان (أن) (١) ⦗٢٧٦⦘ علقمة كان (يحج) (٢) ولا يضحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ نے حج فرمایا لیکن قربانی نہ کی۔
١٤٧٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي العميس عن أبي الزعراء عن أبي الأحوص: أنه لم يكن يضحي في الحج، فلما كان أيام التشريق قال: اشتروا بقرة (فقددوها) (١) (لنتزودها) (٢) في سفرنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص حج میں قربانی نہ کرتے، جب ایام تشریق آتے تو فرماتے کہ گائے خریدو اور اس کو ذبح کرو تاکہ ہم سفر میں اس کو زاد راہ بنائیں۔
١٤٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي المستنير المسلي عن (وبرة) (١) بن عبد الرحمن عن شيخ من التيم قال: كنا مع سعد بمنى فلم (يضح) (٢)، ثم أرسل إلى جيران له: أطعمونا من أضحيتكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ بن عبد الرحمن قبیلہ تیم کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سعد کے ساتھ منیٰ میں تھے آپ نے قربانی نہ کی، پھر آپ نے اپنے پڑوسیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنی قربانیوں میں سے ہمیں کھلاؤ۔
١٤٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن كليب بن وائل عن عمه (قيس) (١) عن سعد بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے اسی طرح مروی ہے۔
١٤٧٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن صالح عن الشعبي قال حججت (ثلاث) (١) حجج ما أهرقت دمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے تین حج کیے لیکن کبھی بھی قربانی نہ کی۔
١٤٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن خالد: أنه كان يكون مع سالم في الحج، فلا يضحي بمنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد حج میں حضرت سالم کے ساتھ تھے آپ نے منیٰ میں قربانی نہ کی۔
١٤٧٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عطاء ومجاهد قالا: (قال) (١) ابن عباس: من حج فأهدى هديًا رجع إلى أهله بحجة وعمرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے حج کیا اور اس میں قربانی کی (ھدی بھیجی) تو وہ حج وعمرہ کے (ثواب کے) ساتھ اپنے گھر لوٹے گا۔